کٹرا روپ وے پروجیکٹ کے خلاف احتجاج مسلسل پانچویں دن بھی جاری
کٹرا روپ وے پراجیکٹ کے خلاف احتجاج اپنے پانچویں دن میں داخل ہوگیا، احتجاج میں بی جے پی کے ایم ایل اے بلدیو راج شرما بھی شامل ہوگئے ہیں
احتجاج کے باعث بازار، دکانیں، ریسٹورنٹ اور گاڑیوں کی آمدورفت سب کچھ متاثر ہو کر رہ گیا۔
پولیس نے تقریباً 18 لوگوں کو حراست میں لیا ہے جن میں سنگھرش سمیتی کے دو سرکردہ لیڈران بھی شامل ہیں۔ جس کے بعد تقریباً پانچ لوگ نظر بندوں کی فوری رہائی کے لیے دھرنے پر بیٹھ گئے۔
آج، بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما (ایم ایل اے)، بلدیو راج شرما نے احتجاج میں شمولیت اختیار کی، گرفتار افراد کو رہا کرنے کے لیے انتظامیہ کو 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے، ورنہ بھوک ہڑتال کی جائے گی۔
کٹره روپ وے منصوبے کے خلاف احتجاج دوسرے دن میں داخل
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ اور دیگر قائدین کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
آخر کیا ہے روپ وے پروجیکٹ ؟
شری ماتا ویشنودیوی شرائن بورڈ نے گزشتہ ماہ بزرگ شہریوں، بچوں اور دیگر لوگوں کی سہولت کے لیے ایک روپ وے پروجیکٹ نصب کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاکہ وہ 13 کلومیٹر طویل ٹریک کو آسانی سے غار کے مزار تک لے جا سکیں۔
اس پروجیکٹ پر 250 کروڑ روپے کی لاگت کی تجویز ہے، جو تاراکوٹ مارگ کو سنجو چھت سے جوڑے گا، جو ریاسی ضلع میں غار کی عبادت گاہ تک لے جائے گا۔
اس پر شری ماتا ویشنودیوی سنگھرش سمیتی نے بدھ کو بند کا اعلان کرتے ہوئے اس پروجیکٹ کو تباہ کن قرار دیا کیونکہ اس سے ان کی روزی روٹی متاثر ہوگی۔
پولیس نے اب تک 18 لوگوں کو حراست میں لیا ہے، جن میں سنگھرش سمیتی کے دو سرکردہ لیڈر شامل ہیں۔ لیکن احتجاج جاری ہے، پانچ افراد اب بھوک ہڑتال پر ہیں، جو حراست میں لیے گئے مظاہرین کی فوری رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بند کی وجہ سے کٹرا کے مصروف قصبے میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں اور یاتریوں نے بھی اس مسئلے کے فوری حل کا مطالبہ کیا ہے۔
متعلقہ خبریں
- ضلع رام بن کے رامسو علاقے میں نوجوان کی گمشدگی پر کشیدگی برقرار، احتجاج کے بعد تحقیقات تیز، 4 افراد گرفتار
- مدھیہ پردیش میں بڑی کارروائی: ٹرین سے 163 کمسن لڑکے بازیاب، انسانی اسمگلنگ کے الزام میں 8 گرفتار
- چین کی مداخلت کے بعد ایران جنگ بندی پر آمادہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی سیزفائر تجویز قبول کر لی
- دو دہائی بعد سی آر پی ایف کانسٹیبل کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے ملی راہت، برطرفی کالعدم قرار
- سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
