دریائے سندھ میں سونے کے بڑے ذخائر برآمد، پاکستان کے لیے خزانہ
دریائے سندھ، قدیم ترین اور طویل ترین دریاؤں میں سے ایک، غیر معمولی مقدار میں سونا ذخیرہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے ہر کوئی حیران پریشان رہ گیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سونے کا بڑا ذخیرہ ملا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی) نے تقریباً 32.6 میٹرک ٹن سونے کے ذخائر کی نشاندہی کی ہے، جس کی قیمت تقریباً 600 ارب پاکستانی روپے ہے۔
دریائے سندھ، اپنے وافر آبی وسائل کے ساتھ لاکھوں لوگوں کو برقرار رکھنے کے لیے جانا جاتا ہے، اب اسے بے پناہ دولت کا ذریعہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ 6 سالوں میں وادئ چناب میں ہوے 20 فیصد سڑک حادثات
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دریائے سندھ میں پایا جانے والا سونا پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں سے تیز رفتاری سے چلنے والے پانی کے ذریعے پہونچا ہے، جہاں یہ دریا کے کنارے میں جمع ہوتا ہے۔ دریائے سندھ 3,200 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سونے سے مالا مال دریائے سندھ میں غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستانی حکومت نے سونا نکالنے پر پابندی کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سردیوں میں جب دریا میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو مقامی لوگ دریا کے کنارے سے سونے کے ذرات جمع کرتے ہیں۔ پاکستان کی خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ سونا ہمالیہ کے علاقے سے نیچے لے جا کر پشاور کے ارد گرد جمع ہو رہا ہے۔
سونے کی دریافت پاکستان کے لیے ایک اہم وقت پر ہوئی ہے، جسے شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اس دریافت کا اعلان پنجاب کے وزیر کان کنی نے تفصیلی ارضیاتی تحقیقات کے بعد کیا۔
متعلقہ خبریں
- Schools Repairing Under Samagra Shiksha: سماگرا شکشا کے تحت جموں و کشمیر میں اسکولوں کی مرمت پر 1,258 لاکھ خرچ: جموں کشمیر حکومت
- Jammu Kashmir Reservation Policy Review: جموں کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ریزرویشن پالیسی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی، منظوری کا انتظار ہے
- جموں کشمیر اسمبلی قانون ساز ممبران نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے اضافے کو روکنے کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ کے لیے زور دیا
- جموں و کشمیر میں ایران سے منسلک دھوکہ دہی کے دعووں کی تردید، خبر جعلی قرار
- جموں و کشمیر میں 96,000 سے زیادہ غیر منظم مزدوروں کا پی ایم پنشن اسکیم کے تحت ہیں درج: حکومت ہند
