کرائم برانچ نے 6 افراد کے خلاف دھوکہ دہی معاملے پر 2 مقدمے کیے درج
ایک سینئر افسر کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے بدھ کے روز یہاں ایک بینک ملازم سمیت 6 افراد کے خلاف دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں جنہوں نے 15 نوجوانوں کو نوکری فراہم کرنے کے بہانے 1.34 کروڑ کا دھوکہ دیا ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، کرائم برانچ جموں، بینم توش نے کہا کہ ملزمان کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر محکمہ کے اکنامک آفیسز ونگ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ہیں اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پہلے معاملے میں، کرائم برانچ نے کہا کہ سانبہ سے نوجوانوں کے ایک گروپ سے مشترکہ شکایت موصول ہوئی تھی،جنہوں نے دھوکہ کھایا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ترسیم سنگھ اور اس کے والد بلبیر سنگھ نے انہیں علاقائی فوج میں ملازمت فراہم کرنے کے بہانے دھوکہ دیا۔
راجوری نامعلوم اموات معاملہ اب تک معمہ، مرنے والوں کی تعداد 17
اس میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے انہیں جعلی آفر لیٹرز دیے، جس میں اعلیٰ افسران کے جعلی دستخط اور مہریں موجود تھیں، انہوں نے مزید کہا کہ اصل اہلیت کے سرٹیفکیٹ اور دیگر دستاویزات ابھی بھی ملزمان کے قبضے میں ہیں۔
پولیس ہیڈکوارٹر کے ذریعے موصول ہونے والی دوسری شکایت میں، کرائم برانچ نے کہا کہ راجوری ضلع سے تعلق رکھنے والے ساحل چودھری نے الزام لگایا ہے کہ اس کے ساتھ 8 لاکھ روپے کی دھوکہ دہی ہوئی جس میں چار افراد شامل تھے جن میں جموں کشمیر بینک کے ملازم ماجد علی، سنی شرما، بشارت حسین مرزا اور عمران تنترے نے کی ہے۔
اس خبر کو انگریزی زبان میں پڑھیں
بینک میں نوکری فراہم کرنے کے لیے دھوکہ دہی کئی۔
کرائم برانچ نے کہا کہ چودھری کو راجوری کے دلہوری گاؤں میں بینکنگ اٹینڈنٹ کے عہدہ پر تقرری کا آرڈر بھی فراہم کیا گیا تھا لیکن یہ آرڈر جعلی پایا گیا۔
متعلقہ خبریں
- ضلع رام بن کے رامسو علاقے میں نوجوان کی گمشدگی پر کشیدگی برقرار، احتجاج کے بعد تحقیقات تیز، 4 افراد گرفتار
- مدھیہ پردیش میں بڑی کارروائی: ٹرین سے 163 کمسن لڑکے بازیاب، انسانی اسمگلنگ کے الزام میں 8 گرفتار
- چین کی مداخلت کے بعد ایران جنگ بندی پر آمادہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی سیزفائر تجویز قبول کر لی
- دو دہائی بعد سی آر پی ایف کانسٹیبل کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے ملی راہت، برطرفی کالعدم قرار
- سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
