پرائیویٹ اسکولوں میں ایڈمیشن فیس لینے پر سخت پابندی، حکومت جموں و کشمیر کی نئی وارننگ جاری
محمد بابر
جموں و کشمیر کی حکومت نے ریاست بھر کے تمام پرائیویٹ اسکولوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں طلباء یا والدین سے داخلہ فیس (Admission Fee) وصول نہ کریں، چاہے اس کا کوئی بھی نام رکھا جائے۔ اس حوالے سے جموں و کشمیر (UT) کی “کمیٹی برائے فکسیشن آف فیس اسٹرکچر آف پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز” کی جانب سے ایک نیا سرکلر جاری کیا گیا ہے جس کا نمبر 14/FFRC/2025 ہے اور یہ 11 جون 2025 کو جاری کیا گیا۔
اس سرکلر میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ والدین اور طلباء کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ ریاست کے کئی پرائیویٹ اسکول داخلہ فیس وصول کر رہے ہیں، جو کہ جموں و کشمیر اسکول ایجوکیشن ایکٹ 2002 (ترمیم شدہ) کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس قانون کی رو سے کسی بھی اسکول کو اجازت نہیں کہ وہ داخلہ فیس یا اس نام سے کسی بھی قسم کی کوئی رقم طلب کرے۔
جانچ ایجنسی نے کرناٹک والمیکی کیس میں کانگریس بیلاری کے ایم پی اور 3 ایم ایل اے پر چھاپہ مارا
سرکلر میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ نجی اسکول خفیہ طور پر بغیر کسی باقاعدہ رسید کے یہ فیس وصول کر رہے ہیں تاکہ غیر قانونی لین دین کو چھپایا جا سکے۔ یہ تمام سرگرمیاں قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس حوالے سے “جموں و کشمیر اسکول ایجوکیشن ایکٹ 2002” کی سیکشن 20E (1) کے تحت واضح ہدایت ہے:
“پرائیویٹ اسکول کسی بھی صورت میں داخلہ فیس یا کسی اور قسم کی کوئی رقم، چاہے اس کا کوئی بھی نام ہو، وصول نہیں کر سکتے۔”
اس ہدایت کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے اور قانون کے تحت قابل سزا ہے۔ کمیٹی نے والدین اور طلباء سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی اسکول کی جانب سے داخلہ فیس وصول کرنے کی شکایت ہو تو فوری طور پر متعلقہ کمیٹی کو سرکاری ای میل (chairmanffrc@gmail.com) یا فون نمبرز 0194-4034841 / 0191-2956990 پر اطلاع دی جائے تاکہ ایسے اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ شکایت کنندگان کی شناخت مکمل طور پر راز میں رکھی جائے گی۔
یہ حکم نامہ سکریٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر و جموں، تمام پرائیویٹ اسکولز، والدین و طلباء، اور عوام الناس تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی کو بھی اس قانون سے لاعلمی نہ رہے۔
اس سرکلر پر جسٹس سنیل ہالی (چیئرمین، ایف ایف آر سی، جموں و کشمیر) کے دستخط موجود ہیں اور اسے ریاض احمد (ایڈمنسٹریٹو آفیسر، کشمیر ڈویژن) نے بھی توثیق کیا ہے۔
یہ سرکاری ہدایت ان تمام والدین کے لیے بڑی راحت کی خبر ہے جو پرائیویٹ اسکولوں کی من مانیاں اور اضافی فیسوں سے پریشان تھے۔ اس کے بعد اگر کوئی اسکول خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
متعلقہ خبریں
- (Apple Inc) ایپل انک کی (Apple Pay In India) ایپل پے ان انڈیا متعارف کرانے کی تیاری
- (Milan 2026) میلان 2026 اختتام پذیر، (Indian Navy) بھارتی بحریہ کی
- کورٹ آف انڈیا (Supreme Court of India) کی سخت برہمی کے بعد این سی ای آر ٹی جماعت ہشتم NCERT) Class 8 Textbook) کی کتاب کا باب دوبارہ تحریر کرنے کا فیصلہ
- Nepal Bus Accident: نیپال میں مسافر بس دریا میں جا گری، 18 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- Kishtwar Encounter: کشتواڑ کے علاقے چھاترو میں جاری تصادم، دو عسکریت پسند ہلاک
