کشتواڑ آفت: ہلاکتوں کی تعداد 60 سے تجاوز، وزیراعلیٰ کا متاثرہ گاؤں کا دورہ، بچائے گئے 38 افراد کی حالت تشویشناک
جموں: جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں جمعرات کو بادل پھٹنے اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے پیمانے کا ابھی تک اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مطابق اس تباہی میں تاحال 60 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 60 سے 70 افراد لاپتہ ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ دیہاتیوں کی بڑی تعداد اب بھی لاپتہ ہے۔ اس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ متعدد لاشیں نکال لی گئی ہیں اور ان کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔
مرکز کی طرف سے ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے: مرکزی وزیر
بحران کی اس گھڑی میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سبھی نے لاپتہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرنے پر زور دیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس سلسلے میں جانکاری دی۔
دوسری جانب مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت بچاؤ آپریشن میں ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘حکومت نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا۔ وزیر اعظم مودی نے خود اس کا نوٹس لیا اور اس کی نگرانی کی۔ اس کے بعد راتوں رات گاڑیوں کے ذریعے یہاں سامان لایا گیا۔
سی آر پی ایف بھی سامان کے ساتھ راتوں رات یہاں پہنچ گئی۔ فضائیہ، انڈین آرمی، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، جموں و کشمیر پولیس اور بی آر او کی خدمات آج لی گئیں کیونکہ ان کے پاس سڑکوں سے ملبہ ہٹانے کی مشینیں ہیں۔ برآمد ہونے والی لاشوں میں سے چار کی شناخت نہیں ہوسکی جب کہ باقی کی شناخت کرلی گئی ہے۔
شدید زخمی مریضوں کو باہر ریفر کر دیا گیا ہے، تقریباً 52 مریضوں کو جموں میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے۔ جن کی حالت زیادہ تشویشناک ہے انہیں باہر ریفر کیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے کوئی کمی نہیں ہے۔
عمر عبداللہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کشتواڑ ضلع کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا۔ ان کا قافلہ گلاب گڑھ پہنچا۔ انہوں نے راحت اور بچاؤ کے کاموں کا جائزہ لیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا حادثہ اور افسوسناک واقعہ ہے۔ جائے وقوعہ سے افسوسناک خبریں آرہی ہیں۔ 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جب کہ بچائے گئے 38 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زیادہ تر لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ کئی لوگ لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بڑا حادثہ ہوا ہے اور یہ کیسے ہوا اس کے بارے میں معلومات اکٹھس کرنا گا۔ راحت اور بچاؤ آپریشن ختم ہونے کے بعد ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ کیونکہ محکمہ موسمیات نے خطرے کی وارننگ جاری کی تھی۔
لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اس کے بعد کیا انتظامیہ کی طرف سے کوئی ایسا قدم اٹھایا گیا جس سے آج ان لوگوں کی جان بچائی جا سکتی تھی؟ اس مسئلے پر بات کرنی ہوگی۔ انہوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔
حادثے میں 60 سے 70 افراد لاپتہ ہیں
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 60 سے 70 افراد لاپتہ ہیں۔ تاہم لاپتہ افراد کی تعداد زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ کچھ عرصے بعد لاپتہ افراد کی سرکاری تعداد معلوم ہو جائے گی۔ راحت اور بچاؤ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے سے تباہی: ریسکیو کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مشغول، مرنے والوں کی تعداد 60 ہو گئی
لاپتہ افراد کی تلاش کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔ ایس ڈی آر ایف جمعہ سے اس آپریشن میں مصروف ہے۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم دہلی سے روانہ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم نریندر مودی نے فون کرکے پورے واقعہ کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے واقعے پر دکھ کا اظہار بھی کیا۔ پی ایم مودی نے اس واقعہ پر حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ جمعہ کو وزیر داخلہ امت شاہ نے فون کرکے حادثے کے بارے میں دریافت کیا۔
وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ وہ نقصان کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے کی صبح سانحہ کی جگہ کا دورہ کریں گے اور ریسکیو آپریشن کا بھی جائزہ لیں گے
متعلقہ خبریں
- (Apple Inc) ایپل انک کی (Apple Pay In India) ایپل پے ان انڈیا متعارف کرانے کی تیاری
- (Milan 2026) میلان 2026 اختتام پذیر، (Indian Navy) بھارتی بحریہ کی
- کورٹ آف انڈیا (Supreme Court of India) کی سخت برہمی کے بعد این سی ای آر ٹی جماعت ہشتم NCERT) Class 8 Textbook) کی کتاب کا باب دوبارہ تحریر کرنے کا فیصلہ
- Nepal Bus Accident: نیپال میں مسافر بس دریا میں جا گری، 18 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- Kishtwar Encounter: کشتواڑ کے علاقے چھاترو میں جاری تصادم، دو عسکریت پسند ہلاک
