Culprit Of Partition:این سی ای آر ٹی نے جناح، کانگریس اور ماؤنٹ بیٹن کو تقسیم کا مجرم قرار دیا
نیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے ایک نئے خصوصی ماڈیول نے تقسیمِ ہند کے لیے تین شخصیات کو ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں محمد علی جناح، کانگریس کی قیادت اور وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن شامل ہیں۔ ہر سال 14 اگست کو منائے جانے والے ’پارٹیشن ہاررز ریمیمبرنس ڈے‘ کے لیے تیار کیے گئے ماڈیول میں کہا گیا ہے:
“جناح، جس نے اس کا مطالبہ کیا؛ دوسرا، کانگریس، جس نے اسے قبول کیا؛ اور تیسرا، ماؤنٹ بیٹن، جس نے اسے نافذ کیا۔”
یہ حوالہ کلاس 6 سے 8 کے لیے بنائے گئے ماڈیول میں ’تقسیم کے مجرم‘ کے عنوان سے ایک سیکشن میں موجود ہے۔ اس کے ساتھ جواہر لعل نہرو کی جولائی 1947 کی تقریر بھی درج ہے، جس میں کہا گیا ہے:
“ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جب ہمیں تقسیم کو قبول کرنا ہوگا یا پھر مسلسل تنازعات اور انتشار کا سامنا کرنا ہوگا۔ تقسیم جتنی بھی بری ہو، جنگ کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔”
ماڈیولز کیا کہتے ہیں؟
این سی ای آر ٹی نے دو الگ الگ ماڈیول شائع کیے ہیں:
ایک کلاس 6 سے 8 (درمیانی مرحلہ) کے لیے
دوسرا کلاس 9 سے 12 (ثانوی مرحلہ) کے لیے
یہ انگریزی اور ہندی میں اضافی وسائل ہیں۔ یہ باقاعدہ نصابی کتابوں کا حصہ نہیں ہیں بلکہ پروجیکٹس، پوسٹروں، مباحثوں اور گفتگو کے ذریعے استعمال کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
دونوں ماڈیول وزیر اعظم نریندر مودی کے 2021 کے اس پیغام سے شروع ہوتے ہیں جس میں تقسیم کی ہولناکیوں کو یاد رکھنے کے دن کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ان کی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کتاب میں لکھا گیا ہے:
“تقسیم کے درد کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری لاکھوں بہنیں اور بھائی بے گھر ہوئے، اور بے شمار لوگوں نے نفرت اور تشدد کے باعث اپنی جانیں گنوا دیں۔ اپنے عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد میں، 14 اگست کو تقسیم کی ہولناکیوں کو یاد کرنے کا دن منایا جائے گا۔”
ممبئی ایئرپورٹ پر انڈیگو ایئر کرافٹ کا پچھلا حصہ رن وے سے ٹکرایا: IndiGo Aircraft’sTail
درمیانی مرحلے کا ماڈیول
اس ماڈیول میں زور دیا گیا ہے کہ تقسیم “ناگزیر نہیں تھی” بلکہ “غلط فہمیوں” کے نتیجے میں ہوئی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ نہرو اور پٹیل نے خانہ جنگی کے خدشے سے تقسیم کو قبول کر لیا، جس کے بعد مہاتما گاندھی نے بھی اپنی مخالفت واپس لے لی۔
“دراصل، نہرو اور پٹیل نے خانہ جنگی کے خوف سے تقسیم کو قبول کیا تھا۔ جب وہ راضی ہو گئے تو مہاتما گاندھی نے بھی اپنی مخالفت ترک کر دی…”
ماڈیول یہ بھی بتاتا ہے کہ گاندھی نے تقسیم کی مخالفت “تشدد یا غصے سے نہیں” کی۔ پٹیل نے اسے “کڑوی دوا” کہا جبکہ نہرو نے اسے “بری لیکن ناگزیر” قرار دیا۔
ثانوی مرحلے کا ماڈیول
یہ ماڈیول تقسیم کو مسلم لیڈروں کی علیحدہ شناخت کے عقیدے سے جوڑتا ہے، جس کی جڑیں “سیاسی اسلام” میں قرار دی گئی ہیں، جو “غیر مسلموں کے ساتھ مستقل مساوات کو مسترد کرتا ہے”۔ اس کے مطابق یہ نظریہ تحریکِ پاکستان کی بنیاد بنا، جس میں جناح اس کے “قابل وکیل رہنما” تھے۔
اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مارچ 1947 میں ماؤنٹ بیٹن کے وائسرائے بننے کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا اور جناح کے اصرار نے نہرو اور پٹیل کو تقسیم پر راضی کیا۔ 3 جون 1947 کو ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم کے منصوبے کا اعلان کیا جسے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے قبول کیا۔
ماڈیول تقسیم کو “دنیا کی تاریخ میں بے مثال سانحہ” قرار دیتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 1947 سے 1950 کے درمیان تقسیم نے ہندوستان کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا، پنجاب اور بنگال کی معیشتوں کو تباہ کر دیا، بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور نقل مکانی کو جنم دیا، فرقہ وارانہ عدم اعتماد کو گہرا کیا، اور جموں و کشمیر کو ایسی افراتفری میں ڈال دیا جو بعد میں دہشت گردی کی صورت میں ابھری۔
طویل مدتی نقصانات – اب بھی جاری
کتاب میں کہا گیا ہے:
“ہندوستان کو بیرونی دشمنی اور اندرونی فرقہ وارانہ تقسیم دونوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں بڑی برادریوں کے درمیان وہی شک اور دشمنی آج بھی برقرار ہے—وہی جذبات جو تقسیم کا باعث بنے تھے۔”
متعلقہ خبریں
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
- Mamata Banerjee In Supreme Court over SIR ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی پر ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر شدید اعتراض، نوٹس جاری کر
- President Rule Ends in Manipur: یمنام کھیم چند سنگھ وزیرِ اعلیٰ کے لیے امیدوار، منی پور میں صدر راج ختم، نئی حکومت کی راہ ہموار
