Fueling of Artemis Moon Rocket: NASA inspects Hydrogen Leak: آرٹیمس مشن: ناسا کے مون راکٹ میں ایندھن کے دوران ہائیڈروجن لیک، تحقیقات جاری
واشنگٹن:ناسا کے نئے چاند مشن آرٹیمس کو ایک بار پھر تکنیکی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پیر کے روز کینیڈی اسپیس سینٹر میں آرٹیمس مون راکٹ کو ایندھن فراہم کرنے کے دوران ہائیڈروجن گیس کے اخراج کا پتہ چلا، جس کے بعد ایندھن بھرنے کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا۔
یہ ٹیسٹ ایک حتمی میک یا بریک مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ خلابازوں کو چاند کے گرد پرواز پر کب روانہ کیا جا سکتا ہے۔ لانچ ٹیم نے دوپہر کے وقت 322 فٹ (98 میٹر) بلند اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ میں انتہائی سرد مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن بھرنے کا عمل شروع کیا تھا۔
ناسا کے مطابق، اس عمل کے دوران 7 لاکھ گیلن سے زائد ایندھن راکٹ کے ٹینکوں میں منتقل کیا جانا تھا، تاکہ اصل لانچ سے قبل الٹی گنتی کے آخری مراحل کی مکمل مشق کی جا سکے۔ تاہم، صرف دو گھنٹے بعد راکٹ کے نچلے حصے کے قریب ہائیڈروجن لیک کا انکشاف ہوا، جس پر حفاظتی اقدامات کے تحت ہائیڈروجن لوڈنگ روک دی گئی۔ اس وقت راکٹ کا بنیادی مرحلہ صرف نصف تک بھرا جا سکا تھا۔
لانچ ٹیم نے اس مسئلے کے حل کے لیے وہی طریقہ کار اپنایا جو 2022 میں پہلے SLS راکٹ کی آزمائشی پرواز کے دوران ہائیڈروجن لیک کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی لیک کے باعث لانچ کئی ماہ تاخیر کا شکار ہوا تھا۔
دوسری جانب، آرٹیمس مشن کے خلاباز — تین امریکی اور ایک کینیڈین — ہیوسٹن میں واقع جانسن اسپیس سینٹر سے تقریباً ایک ہزار میل دور بیٹھ کر ڈریس ریہرسل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ عملہ گزشتہ ڈیڑھ ہفتے سے قرنطینہ میں ہے اور ایندھن کے اس تجربے کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔
ناسا حکام کا کہنا ہے کہ پورے دن پر محیط یہ آپریشن اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا نصف صدی سے زائد عرصے بعد خلابازوں کو دوبارہ چاند کے سفر پر بھیجا جا سکتا ہے یا نہیں۔ شدید سردی کے باعث لانچ پہلے ہی دو دن تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ ایجنسی نے الٹی گنتی کی گھڑیاں انجن کے اگنیشن سے 30 سیکنڈ قبل روکنے کے لیے سیٹ کر دی ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ مسئلے سے نمٹا جا سکے۔
اگر ایندھن بھرنے کا یہ تجربہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو ناسا اتوار کے روز مشن کمانڈر ریڈ وائزمین اور ان کے عملے کو روانہ کر سکتا ہے۔ تاہم، راکٹ کو 11 فروری تک لانچ کرنا لازمی ہے، بصورت دیگر مشن کو مارچ تک مؤخر کر دیا جائے گا۔ ناسا کے پاس ہر ماہ لانچ کے لیے صرف چند ہی موزوں دن دستیاب ہوتے ہیں۔
یہ تقریباً 10 روزہ مشن خلابازوں کو چاند کے قریب سے گزارے گا، جہاں وہ چاند کے پراسرار دور کے گرد چکر لگانے کے بعد زمین کی جانب واپس آئیں گے۔ اس دوران خلائی کیپسول کے لائف سپورٹ اور دیگر اہم نظاموں کی جانچ کی جائے گی، تاہم نہ تو چاند کے مدار میں داخل ہونے اور نہ ہی لینڈنگ کی کوئی کوشش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ ناسا نے آخری بار 1960 اور 1970 کی دہائی میں اپولو پروگرام کے تحت خلابازوں کو چاند پر بھیجا تھا۔ نیا آرٹیمس پروگرام چاند پر طویل اور پائیدار انسانی موجودگی کے قیام کا آغاز سمجھا جا رہا ہے، جس میں یہ مشن مستقبل میں خلابازوں کی چاند پر لینڈنگ کی راہ ہموار کرے گا۔
متعلقہ خبریں
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
- Mamata Banerjee In Supreme Court over SIR ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی پر ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر شدید اعتراض، نوٹس جاری کر
- President Rule Ends in Manipur: یمنام کھیم چند سنگھ وزیرِ اعلیٰ کے لیے امیدوار، منی پور میں صدر راج ختم، نئی حکومت کی راہ ہموار
