President Rule Ends in Manipur: یمنام کھیم چند سنگھ وزیرِ اعلیٰ کے لیے امیدوار، منی پور میں صدر راج ختم، نئی حکومت کی راہ ہموار
امپھال/نئی دہلی — منی پور کے بی جے پی ایم ایل اے یمنام کھیم چند سنگھ کو پارٹی کی لیجسلیچر پارٹی کا نیا لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ریاست میں نئی حکومت کے قیام کا عمل تیز ہو گیا ہے، جہاں صدر راج کی مدت مکمل ہونے میں چند دن باقی تھے۔
یہ انتخاب نئی دہلی میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران عمل میں آیا، جس میں منی پور سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے اراکینِ اسمبلی اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے شراکت داروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی مبصر ترون چُگھ اور شمال مشرقی خطے کے انچارج سمبت پاترا بھی موجود تھے، جن کی موجودگی میں اتفاقِ رائے سے قیادت کا فیصلہ کیا گیا۔
سیاسی قیادت کے طے پاتے ہی ریاست میں نافذ صدر راج واپس لے لیا گیا۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت 13 فروری 2025 کو نافذ کیے گئے صدر راج کو 4 فروری 2026 سے ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
Udhampur Encounter:اُدھم پور میں انکاؤنٹر، دو عسکریت پسند ہلاک
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ آئین کی شق 356(2) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے منی پور سے متعلق سابقہ صدارتی اعلامیہ منسوخ کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ریاست میں آئینی حکومت کی بحالی کی راہ صاف ہو گئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق یمنام کھیم چند سنگھ آج ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ حلف برداری کی تقریب شام چھ بجے امپھال کے لوک بھون میں متوقع ہے۔ اسی تقریب میں نمچا کِپگن کے نائب وزیر اعلیٰ کا حلف لینے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریاستی بی جے پی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمنام کھیم چند سنگھ کی قیادت میں منی پور کو امن، ترقی اور مؤثر حکمرانی کی سمت لے جایا جائے گا۔ پارٹی کے مطابق تقریب کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔
اس سے قبل یمنام کھیم چند سنگھ نے این ڈی اے کے ایک وفد کے ہمراہ گورنر اجے کمار بھلا سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا باضابطہ دعویٰ پیش کیا۔ وفد میں چوراچندپور اور پھیرزوال سمیت کُکی-زو اکثریتی اضلاع کے دو اراکینِ اسمبلی بھی شامل تھے، جسے سیاسی طور پر اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
62 سالہ یمنام کھیم چند سنگھ کو منگل کے روز پہلے بی جے پی لیجسلیچر پارٹی اور پھر این ڈی اے لیجسلیچر پارٹی کی قیادت سونپی گئی۔ بی جے پی کے سینئر رہنما تھونگم بسواجیت نے بتایا کہ نئی حکومت میں وزیر اعلیٰ سمیت پانچ وزراء حلف اٹھائیں گے۔
واضح رہے کہ فروری 2025 میں اس وقت صدر راج نافذ کیا گیا تھا جب اس وقت کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان پر مئی 2023 میں میتئی اور کُکی برادریوں کے درمیان بھڑکنے والے نسلی تشدد سے نمٹنے میں ناکامی کے الزامات لگے تھے، جس کے بعد سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا۔
سیاسی مبصرین صدر راج کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل کو منی پور کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں طویل بے یقینی کے بعد جمہوری عمل کی بحالی سے استحکام کی امید کی جا رہی ہے۔
متعلقہ خبریں
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
- Mamata Banerjee In Supreme Court over SIR ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی پر ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر شدید اعتراض، نوٹس جاری کر
- Udhampur Encounter:اُدھم پور میں انکاؤنٹر، دو عسکریت پسند ہلاک
