:Mamata Banerjee In Supreme Court over SIR ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی پر ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر شدید اعتراض، نوٹس جاری کر دیا
نئی دہلی —مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی اور جامع نظرِ ثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن—SIR) کے خلاف دائر اپنی عرضی پر سپریم کورٹ میں دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کے چیمبر میں سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ ’’بند دروازوں کے پیچھے انصاف رو رہا ہے‘‘۔
ابتدا میں پانچ منٹ کی مہلت مانگنے پر عدالت نے انہیں پندرہ منٹ تک اپنے دلائل پیش کرنے کی اجازت دی۔ بلند آواز میں گفتگو کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے ان کی بار بار کی گئی تحریری اپیلوں کو نظر انداز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چھ مرتبہ کمیشن کو لکھ چکی ہیں، مگر آج تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جویمالیہ باگچی اور جسٹس وی ایم پنچولی بھی شامل تھے، نے عرضی کی سنجیدگی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ SIR سے متعلق نوٹس جاری کرنے میں احتیاط برتے اور زمینی سطح پر افسران کو حساس رویہ اپنانے کی ہدایت دے۔
یہ ہدایات ممتا بنرجی کی تحریری شکایت کے بعد سامنے آئیں، جس میں کہا گیا تھا کہ SIR کے نوٹس نامور شخصیات کو بھی بھیجے گئے، جن میں نوبیل انعام یافتہ امرتیہ سین، معروف بنگالی شاعر جوئے گو سوامی اور ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دیپک ادھیکاری شامل ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے پر اگلی سماعت پیر کے روز ہوگی۔
سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاست یہ نہیں چاہتی کہ زبان یا املا کی معمولی غلطیوں کی بنیاد پر لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے جائیں۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کا نام صرف اس لیے حذف کر دیا گیا کیونکہ شادی کے بعد انہوں نے اپنے سسرال کا خاندانی نام استعمال کیا۔ ان کے مطابق شادی کے بعد رہائش تبدیل کرنے والی خواتین کو منطقی تضاد کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔
ممتا بنرجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ الیکشن کمیشن عدالتی ہدایات کے باوجود آدھار کو تسلیم نہیں کر رہا اور مغربی بنگال کو انتخابی موسم میں دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر ریاستوں میں ڈومیسائل اور ذات کے سرٹیفکیٹ قبول کیے جاتے ہیں، مگر بنگال کے ساتھ مختلف سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب چار ریاستوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں تو 24 برس بعد اچانک تین ماہ میں یہ مشق کیوں کی جا رہی ہے۔
اس نکتے پر عدالت نے نشاندہی کی کہ اس معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھا جا چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے SIR مشق سے جڑی اموات کا ذکر بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ کٹائی کے موسم اور عوامی نقل و حرکت کے دوران سو سے زائد افراد کی جانیں گئیں، جن میں بوتھ لیول افسران بھی شامل تھے، جبکہ کئی افراد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہی عمل ضروری تھا تو آسام میں ایسا کیوں نہیں ہوا۔
سماعت کے اختتام سے قبل ممتا بنرجی نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ بنگال کو ’’بلڈوز‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بنچ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی اور کہا کہ عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد معاملے کی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کر دی
متعلقہ خبریں
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
- President Rule Ends in Manipur: یمنام کھیم چند سنگھ وزیرِ اعلیٰ کے لیے امیدوار، منی پور میں صدر راج ختم، نئی حکومت کی راہ ہموار
- Udhampur Encounter:اُدھم پور میں انکاؤنٹر، دو عسکریت پسند ہلاک
