Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
شیلانگ —
میگھالیہ کے ضلع ایسٹ جینتیا ہلز میں ایک مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں چار مزدور جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب مزدور کان کے اندر گہرائی میں پھنس گئے۔
ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وکاس کمار نے بتایا کہ واقعہ تھانگسکو علاقے میں پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکہ کوئلہ نکالنے کے دوران ہوا، جبکہ حکام کو شبہ ہے کہ کان کنی کی سرگرمیاں غیر قانونی طور پر انجام دی جا رہی تھیں۔
ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی پر ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر شدید اعتراض، نوٹس جاری کر
حادثے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ پر ریسکیو اور لاشوں کی بازیابی کے لیے اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (SDRF) سے مدد طلب کی ہے۔ ایس پی وکاس کمار کے مطابق SDRF کی ٹیم تاحال موقع پر نہیں پہنچی، تاہم متاثرہ مقام تک رسائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دھماکے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم حکام نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حادثے کے پسِ منظر اور ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا کان غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی، تو پولیس افسر نے کہا کہ ابتدائی شواہد اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ میگھالیہ میں کوئلہ کان کنی کئی برسوں سے تنازع کا شکار رہی ہے۔ سال 2014 میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے ماحولیاتی نقصان اور مزدوروں کی جان کو لاحق شدید خطرات کے پیش نظر ریٹ ہول مائننگ اور دیگر غیر سائنسی طریقوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کے تحت ایسے طریقوں سے نکالے گئے کوئلے کی غیر قانونی نقل و حمل پر بھی قدغن لگائی گئی تھی۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے این جی ٹی کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کوئلہ کان کنی صرف سائنسی اور ضابطہ بند طریقوں کے تحت، ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہی کی جا سکتی ہے۔
ریٹ ہول مائننگ میں زمین کے اندر تین سے چار فٹ اونچی تنگ سرنگیں کھودی جاتی ہیں، جن میں مزدور رینگتے ہوئے کوئلہ نکالتے ہیں۔ یہ سرنگیں نہایت خطرناک ہوتی ہیں اور ریاست کے کوئلہ پیدا کرنے والے اضلاع میں ماضی میں کئی جان لیوا حادثات کا سبب بن چکی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تحقیقات مکمل ہوں گی اور غیر قانونی کان کنی میں ملوث افراد کی نشاندہی ہو گی، قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
متعلقہ خبریں
- جموں کشمیر اسمبلی قانون ساز ممبران نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے اضافے کو روکنے کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ کے لیے زور دیا
- جموں و کشمیر میں ایران سے منسلک دھوکہ دہی کے دعووں کی تردید، خبر جعلی قرار
- جموں و کشمیر میں 96,000 سے زیادہ غیر منظم مزدوروں کا پی ایم پنشن اسکیم کے تحت ہیں درج: حکومت ہند
- No Fuel Shortage in India: Bharat Petroleum افواہوں کے درمیان بھارت پٹرولیم کا بڑا بیان، بھارت میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں
- وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی طرف دھکیلا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
