Vande Mataram & National Anthem: سرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
نئی دہلی — مرکزی وزارتِ داخلہ نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب ملک بھر کی تمام سرکاری تقریبات اور تعلیمی اداروں میں قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ سے قبل قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ بجایا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد سرکاری پروٹوکول میں ایک نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔
جاری کردہ رہنما اصولوں کے مطابق سرکاری تقاریب میں جب ’’وندے ماترم‘‘ بجایا جائے تو تمام افراد کے لیے احتراماً کھڑا ہونا لازمی ہوگا۔ یہ ہدایت شہری اعزازات کی تقریبات، بشمول پدم ایوارڈز، پر بھی لاگو ہوگی۔ اسی طرح صدرِ جمہوریہ کی آمد و روانگی کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگراموں میں بھی اس ضابطے پر عمل کیا جائے گا۔
البتہ سنیما ہالز جیسے عوامی مقامات پر گیت بجانے کی اجازت ہوگی، مگر وہاں کھڑا ہونا لازمی نہیں قرار دیا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے ہدایت دی ہے کہ ’’وندے ماترم‘‘ کے تمام چھ بند مکمل طور پر پیش کیے جائیں، جن میں وہ چار بند بھی شامل ہیں جو 1937 میں باضابطہ استعمال سے الگ کر دیے گئے تھے۔
گزشتہ ماہ ذرائع نے اشارہ دیا تھا کہ حکومت ’’وندے ماترم‘‘ کو بھی قومی اعزازات کی توہین کی روک تھام کے قانون (Prevention of Insults to National Honour Act) کے دائرے میں لانے پر غور کر رہی ہے۔ یہ قانون اس وقت قومی ترانے پر لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کے تحت قومی ترانے — اور اگر ترمیم ہوئی تو قومی گیت — کی بے حرمتی یا احترام میں خلل ڈالنے پر تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
سیاسی گرما گرمی کا امکان
حکومت کا یہ فیصلہ سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ گزشتہ برس بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے درمیان ’’وندے ماترم‘‘ کے معاملے پر سخت بیانات کا تبادلہ ہوا تھا۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے گیت کے بعض حصوں کی مخالفت اس خدشے کے تحت کی کہ وہ مسلمانوں کو ناگوار گزر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس موقف کو محمد علی جناح کے مؤقف سے جوڑتے ہوئے تاریخی تناظر پیش کیا تھا۔
بی جے پی نے اس دعوے کے حق میں نہرو اور دیگر رہنماؤں کے درمیان خط و کتابت کے اقتباسات بھی جاری کیے تھے۔ یہ معاملہ گیت کی ڈیڑھ سو سالہ تقریبات کے دوران خاصا زیر بحث رہا۔
کانگریس نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے اسے ’’گہری ستم ظریفی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج قوم پرستی کے دعوے دار ہیں، ماضی میں خود ’’وندے ماترم‘‘ گانے سے گریز کرتے رہے۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ نہرو کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہی ہے اور انتخابی فائدے کے لیے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔
مغربی بنگال میں اس بحث کی گونج زیادہ سنائی دے رہی ہے، جہاں آئندہ چند ماہ میں اسمبلی انتخابات متوقع ہیں۔
تاریخی پس منظر
’’وندے ماترم‘‘ 7 نومبر 1875 کو بنگالی ادیب اور شاعر بنکم چندر چٹرجی نے تحریر کیا۔ بعد ازاں اسے ان کے 1882 کے ناول ’’آنند مٹھ‘‘ میں شامل کیا گیا۔ آزادی کی تحریک کے دوران یہ نعرۂ حریت کے طور پر ابھرا اور عوامی اجتماعات میں جوش و ولولہ پیدا کرتا رہا۔
اس نظم کے کل چھ بند ہیں۔ ابتدائی بندوں میں وطن کو ایک مہربان اور پرورش کرنے والی ماں کے روپ میں پیش کیا گیا ہے، جب کہ بعد کے بندوں میں درگا، لکشمی (کملہ) اور سرسوتی جیسی ہندو دیویوں کا حوالہ ملتا ہے۔ ان اشارات میں قوم کو روحانی اور جنگجو قوت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
1937 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی، جس کی قیادت اس وقت نہرو کر رہے تھے، نے فیصلہ کیا تھا کہ قومی اجتماعات میں صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ بعض مسلم اراکین نے دیویوں کے حوالوں کو خود کو الگ تھلگ محسوس کرنے کا سبب قرار دیا تھا۔
بی جے پی کا مؤقف ہے ک
ہ ان بندوں کو ہٹانا تقسیم کی سیاست کی عکاسی کرتا تھا۔ وزیرِ اعظم مودی کے مطابق اس فیصلے نے ’’ملک کی تقسیم کے بیج بوئے‘‘ — جس سے ان کا اشارہ تقسیمِ ہند کی طرف تھا۔
اب تمام چھ بندوں کی بحالی کے ساتھ حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ قومی گیت کے استعمال کے موجودہ ضابطے میں بڑی تبدیلی لا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ سیاسی اور سماجی سطح پر بحث کا محور بن سکتا ہے۔
متعلقہ خبریں
- جموں کشمیر اسمبلی قانون ساز ممبران نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کے اضافے کو روکنے کے لیے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ کے لیے زور دیا
- جموں و کشمیر میں ایران سے منسلک دھوکہ دہی کے دعووں کی تردید، خبر جعلی قرار
- جموں و کشمیر میں 96,000 سے زیادہ غیر منظم مزدوروں کا پی ایم پنشن اسکیم کے تحت ہیں درج: حکومت ہند
- No Fuel Shortage in India: Bharat Petroleum افواہوں کے درمیان بھارت پٹرولیم کا بڑا بیان، بھارت میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں
- وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کی طرف دھکیلا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
