Mehraj Malik’s PSA Case: جموں کشمیر ہائی کورٹ نے سماعت 19 فروری تک ملتوی کر دی
جموں — Mehraj Malik’s PSA Case میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے مہراج ملک کی پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت حراست کے خلاف دائر درخواست پر مزید سماعت 19 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔
جسٹس محمد یوسف وانی نے جموں میں سماعت کے دوران سینئر سرکاری وکلاء سنیل سیٹھی اور مونیکا کوہلی کے دلائل سنے۔ کارروائی کے بعد مہراج ملک کی قانونی ٹیم کے رکن ایڈووکیٹ اپّو سنگھ سلاتھیا نے صحافیوں کو بتایا کہ کیس کو آئندہ ہفتے دلائل کی تکمیل کے لیے فہرست کیا گیا ہے۔
Mehraj Malik’s PSA Case: ستمبر سے حراست میں
مہراج ملک، جو چناب ویلی کے ضلع ڈوڈہ سے اے اے پی کے رکن اسمبلی ہیں، کو گزشتہ سال ستمبر میں ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ کے احکامات پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔
پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت انتظامیہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر کسی فرد کو بغیر باقاعدہ فردِ جرم عائد کیے دو سال تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔
Mehraj Malik’s PSA Case میں اے اے پی نے ہائی کورٹ میں ہیبیس کارپس پٹیشن دائر کرتے ہوئے حراستی حکم کو کالعدم قرار دینے اور مہراج ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض عرضیوں میں معاوضے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
اب تک کی عدالتی کارروائی
ہائی کورٹ نے ستمبر 2025 میں درخواست منظور کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری (داخلہ) اور ضلع مجسٹریٹ ڈوڈہ سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔
گزشتہ ہفتے ریاستی حکومت کے دلائل کا ایک حصہ سنا گیا تھا، جبکہ جمعرات کی سماعت میں انتظامیہ کی جانب سے حراست کے حکم کا دفاع جاری رکھا گیا۔ عدالت نے دلائل کو جزوی طور پر سنا اور Mehraj Malik’s PSA Case کی اگلی سماعت 19 فروری مقرر کی۔
کیس میں اب تک متعدد مرتبہ التوا ہو چکا ہے، جس کی وجہ حراست کی بنیادوں اور قانونی طریقہ کار کے تفصیلی جائزے کو قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی ردعمل اور قانونی بحث
مہراج ملک، جو اے اے پی جموں و کشمیر یونٹ کے صدر بھی ہیں، کی حراست پر مختلف سیاسی جماعتوں نے تنقید کی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ایک منتخب عوامی نمائندے کے خلاف پی ایس اے کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔
Mehraj Malik’s PSA Case ایک ایسے وقت میں زیرِ سماعت ہے جب جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست کے معاملات عدالتی جانچ کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدالتیں عموماً حراست کی وجوہات، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور کارروائی کے تناسب جیسے نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہی ہیں۔
اب جبکہ دلائل کا سلسلہ جاری ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ ہائی کورٹ 19 فروری کو دوبارہ سماعت کے دوران حراست کی قانونی حیثیت پر مزید غور کرے گی۔
متعلقہ خبریں
- ضلع رام بن کے رامسو علاقے میں نوجوان کی گمشدگی پر کشیدگی برقرار، احتجاج کے بعد تحقیقات تیز، 4 افراد گرفتار
- مدھیہ پردیش میں بڑی کارروائی: ٹرین سے 163 کمسن لڑکے بازیاب، انسانی اسمگلنگ کے الزام میں 8 گرفتار
- چین کی مداخلت کے بعد ایران جنگ بندی پر آمادہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی سیزفائر تجویز قبول کر لی
- دو دہائی بعد سی آر پی ایف کانسٹیبل کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے ملی راہت، برطرفی کالعدم قرار
- سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
