Tarique Rahman 17 سالہ جلاوطنی کے بعد بنگلادیشی وزارتِ عظمیٰ کے قریب
ڈھاکہ — بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں Tarique Rahman ملک کے اگلے وزیر اعظم بننے کے لیے مضبوط پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ ان کی جماعت، Bangladesh Nationalist Party (بی این پی)، نے حالیہ عام انتخابات میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔
60 سالہ طارق رحمان 17 برس تک برطانیہ میں جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد وطن واپس آئے اور ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 کے حلقوں سے انتخاب لڑا۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے ہیں۔
سیاسی پس منظر
طارق رحمان سابق صدر Ziaur Rahman کے بڑے صاحبزادے ہیں جبکہ ان کی والدہ Khaleda Zia تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ خالدہ ضیاء کے انتقال کے بعد دسمبر 2025 میں طارق رحمان نے باضابطہ طور پر بی این پی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا، اس سے قبل وہ قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔
انہیں مئی 2007 میں فوجی حمایت یافتہ عبوری حکومت کے دور میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تقریباً 17 ماہ تک مختلف مقدمات میں زیر حراست رہے۔ بعد ازاں انہیں غیر حاضری میں سزا سنائی گئی، تاہم اگست 2024 میں Sheikh Hasina کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ سزائیں کالعدم قرار دے دی گئیں۔
Bangladesh Election 2026: 2024 کی بغاوت کے بعد پہلا عام انتخاب، سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ووٹنگ جاری
انتخابی نتائج اور سیاسی مضمرات
بی این پی نے 300 میں سے 292 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے اور اندازوں کے مطابق پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اس بار Awami League کی رجسٹریشن معطل ہونے کے باعث وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی، جس نے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا۔
طارق رحمان کی کامیابی کو بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں طاقت کا توازن واضح طور پر بی این پی کے حق میں جھک گیا ہے۔
عالمی ردعمل
بھارتی وزیر اعظم Narendra Modi نے طارق رحمان اور بی این پی کو “فیصلہ کن فتح” پر مبارکباد دیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی امید ظاہر کی۔ امریکا نے بھی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
بھارت کے ساتھ تعلقات: بڑا امتحان
آنے والی حکومت کے لیے سب سے اہم چیلنج بھارت کے ساتھ تعلقات کی ازسرِ نو ترتیب ہو گا۔ شیخ حسینہ کے دور میں نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان قریبی روابط قائم ہوئے تھے، تاہم حالیہ مہینوں میں تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی۔
طارق رحمان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ مستقبل کے تعلقات “باہمی احترام اور افہام و تفہیم” کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان خطے میں سفارتی توازن کی نئی حکمت عملی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو طارق رحمان کی بطور وزیر اعظم نامزدگی بنگلہ دیش کی داخلی سیاست اور علاقائی سفارت کاری دونوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
متعلقہ خبریں
- (Apple Inc) ایپل انک کی (Apple Pay In India) ایپل پے ان انڈیا متعارف کرانے کی تیاری
- (Milan 2026) میلان 2026 اختتام پذیر، (Indian Navy) بھارتی بحریہ کی
- کورٹ آف انڈیا (Supreme Court of India) کی سخت برہمی کے بعد این سی ای آر ٹی جماعت ہشتم NCERT) Class 8 Textbook) کی کتاب کا باب دوبارہ تحریر کرنے کا فیصلہ
- Nepal Bus Accident: نیپال میں مسافر بس دریا میں جا گری، 18 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- Kishtwar Encounter: کشتواڑ کے علاقے چھاترو میں جاری تصادم، دو عسکریت پسند ہلاک
