Iran Nuclear Programme Negotiations: ایران کہتا ہے پابندیاں بھی بات چیت کا حصہ ہوں، امریکی قدم کا انتظار
ایران نے اپنے Iran Nuclear Programme کے حوالے سے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ساتھ ہی زور دیا ہے کہ اس پر عائد پابندیوں (sanctions) کو بھی مذاکراتی میز پر لانا ضروری ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے BBC کو بتایا کہ تہران اپنے پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن پابندیوں کے بارے میں بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ “گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے” — یعنی امریکا کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 6 فروری کو عمان میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیے۔ عمانی حکام نے ثالثی کا کردار ادا کیا، اور سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور اگلے ہفتے ہوگا، جس میں ایران کے Iran Nuclear Programme پر دوبارہ بحث متوقع ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری پروگرام پر پابندیاں اٹھائے بغیر کوئی پائیدار حل ممکن نہیں۔ ایرانی حکام نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے کہ اعلیٰ افزودہ یورینیم کو کم کرنے جیسے تجاویز پر غور کریں گے، بشرطیکہ تمام اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں۔
تاہم گزشتہ سال ہونے والے مذاکرات جون میں جنگ کے باعث رک گئے تھے، جس نے تہران کے اعتماد کو متاثر کیا تھا۔ اس کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان تحفظات برقرار ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ انتظامیہ نے پابندیوں اور ممکنہ فوجی اقدامات پر زور دیا۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر ایران معاہدہ نہیں کرتا تو “انتہائی تکلیف دہ” نتائج سامنے آئیں گے، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی تصادم سے علاقائی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
ایران نے بار بار کہا ہے کہ اس کا Iran Nuclear Programme پرامن مقاصد کے لیے ہے، لیکن واشنگٹن کا اصرار ہے کہ افزودگی ختم کی جائے، جسے تہران مسترد کرتا رہا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ تصدیق (verification) کے لیے تیار ہیں، مگر اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے (International Atomic Energy Agency) تک مکمل رسائی ابھی ممکن نہیں ہوئی ہے۔
دونوں فریق اب بھی اختلافات کے ساتھ مذاکرات کی راہ میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور جنیوا میں ہونے والا اگلا دور فیصلہ کن ہو سکتا ہے کہ آیا ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابلِ عمل معاہدہ طے پائے گا یا نہیں۔
متعلقہ خبریں
- (Apple Inc) ایپل انک کی (Apple Pay In India) ایپل پے ان انڈیا متعارف کرانے کی تیاری
- (Milan 2026) میلان 2026 اختتام پذیر، (Indian Navy) بھارتی بحریہ کی
- کورٹ آف انڈیا (Supreme Court of India) کی سخت برہمی کے بعد این سی ای آر ٹی جماعت ہشتم NCERT) Class 8 Textbook) کی کتاب کا باب دوبارہ تحریر کرنے کا فیصلہ
- Nepal Bus Accident: نیپال میں مسافر بس دریا میں جا گری، 18 افراد ہلاک، متعدد زخمی
- Kishtwar Encounter: کشتواڑ کے علاقے چھاترو میں جاری تصادم، دو عسکریت پسند ہلاک
