اسرائیل ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ حملوں کے لیے تیار، امریکی منظوری کا انتظار
تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اسرائیل نے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں کی تیاری مکمل کر لی ہے، تاہم حتمی کارروائی کے لیے وہ امریکہ کی منظوری کا منتظر ہے۔ ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق آئندہ چند دنوں میں صورتحال فیصلہ کن رخ اختیار کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے سخت نتائج کی وارننگ دی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ “وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے”۔
موجودہ بحران نے پہلے ہی بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں پر بھی شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود کیے جانے کے باعث دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 2 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا کیا مطالبہ
ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران نے اپنی عسکری کارروائیوں میں شدت لاتے ہوئے اسرائیلی اہداف اور خلیجی خطے میں امریکی مفادات سے جڑے مقامات، بشمول متحدہ عرب امارات اور کویت میں تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اسرائیل سے منسلک بحری جہاز پر ڈرون حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جس کے بعد جہاز میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔
فضائی محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق ایرانی افواج نے ایک امریکی F-15E جنگی طیارہ مار گرایا، جبکہ ایک اور واقعے میں امریکی A-10 طیارہ کو کویت کے اوپر نشانہ بنایا گیا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جدید مقامی فضائی دفاعی نظام تعینات کیے ہیں، جو ڈرونز اور کروز میزائلز سمیت کئی حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں تل ابیب کے قریب فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے باعث وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ خلیجی ممالک تاحال براہِ راست مداخلت سے گریز کر رہے ہیں، تاہم صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔
سفارتی کوششیں فی الحال محدود دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ دونوں جانب عسکری تیاریاں عروج پر ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دن نہ صرف خطے بلکہ عالمی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
متعلقہ خبریں
- خلیجی ممالک خطے کو جنگ سے بچائیں: اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سابق سربراہ Mohamed ElBaradei کی ٹرمپ پر کڑی تنقید
- ہماچل پردیش: منالی میں سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے 4 افراد ہلاک، 14 زخمی
- متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 2 ارب ڈالر قرض کی واپسی کا کیا مطالبہ
- جموں و کشمیر عام آدمی پارٹی نے عاقب شاہ کی بنیادی رکنیت کئی ختم
- راگھو چڈھا کی جگہ اشوک متل نے سنبھالی، دباؤ یا عام آدمی پارٹی کا سیاسی داؤ پیچ
