جموں کشمیر لداخ ہائی کورٹ نےمقبول بھٹ کے بھائی کی فوری رہائی کا دیا حکم، PSA نظر بندی ختم
سری نگر: جموں، کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقتول مقبول بٹ کے بھائی ظہور احمد بھٹ کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے تھریگام گاؤں میرپورہ کا رہنے والا بھٹ 2022 سے نظر بند تھا اور ہریانہ کی کرنال جیل میں بند تھا۔
عدالت کا فیصلہ اس وقت آیا جب ایڈوکیٹ بشیر احمد ٹاک نے بھٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے دلیل دی کہ نظر بندی کا حکم من مانی سے جاری کیا گیا تھا اور اس میں کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی۔
ایڈووکیٹ ٹاک نے استدلال کیا کہ نظر بندی کے حکم نامے میں درج الزامات کا بھٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور حراست کو جواز فراہم کرنے کے لیے من گھڑت ہے۔
سنہ 1901 کے بعد سے ہندوستان میں سال 2024 رہا گرم ترین سال
انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ نظر بندی کی بنیادیں مبہم اور منصفانہ نمائندگی کے لیے ناکافی ہیں، جو قانون کے تحت فراہم کردہ تحفظات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق ایڈووکیٹ ٹاک نے عدالت میں دلیل دی کہ ’’نظر بندی کے حکم کی بنیاد بنانے والا پورا مواد میرے موکل کو فراہم نہیں کیا گیا اور نظر بندی کے خلاف ان کی نمائن میلدگی پر غور نہیں کیا گیا۔‘‘
جواب میں، حکام نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بھٹ کی سرگرمیاں “ریاست کی سلامتی کے لیے انتہائی متعصبانہ” تھیں اور درج شدہ ایف آئی آر میں درج سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس کی حراست ضروری تھی۔
دونوں فریقوں کو سننے کے بعد جسٹس سنجے دھر نے پی ایس اے کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ بھٹ کو فوری طور پر حراست سے رہا کیا جائے اگر وہ کسی دوسرے زیر التوا کیس کے سلسلے میں درکار نہ ہوں۔
متعلقہ خبریں
- و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں بھلیسہ چناب پریمیئر لیگ میچ کے دوران نوجوان کرکٹر جاں بحق
- لداخ میں مقامی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے 17 نئی تحصیلیں قائم
- شمال مغربی نائجیریا میں تشدد، مسلح حملے میں 17 کسان ہلاک، 13 زخمی
- جاپانی وفد نایاب معدنیات کے ذخائر کے جائزے کے لیے گرین لینڈ روانہ ہوگا
- پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان میں 13 افراد ہلاک، جن میں 11 بچے شامل: طالبان حکومت
