پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان میں 13 افراد ہلاک، جن میں 11 بچے شامل: طالبان حکومت
نئی دہلی، 10 جون 2026 ( Urdu VoM News): مشرقی افغانستان میں مبینہ طور پر پاکستانی فورسز کی جانب سے رات بھر کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ VoM News کو دستیاب تفصیلات کے مطابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مرنے والوں میں 11 بچوں کے شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔
طالبان حکومت کے ترجمان Zabihullah Mujahid نے دعویٰ کیا کہ یہ فضائی حملے رات کے وقت اس وقت کیے گئے جب لوگ سو رہے تھے۔ ان کے مطابق حملے افغان صوبوں خوست، کنڑ اور پکتیکا میں کیے گئے۔
اگرچہ پاکستان نے اب تک ان حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے، تاہم افغان سرحد کے قریب کی جانے والی کارروائیوں کو فوجی اقدام کے واضح ثبوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان متعدد بار افغانستان پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے جنگجوؤں کو پناہ فراہم کر رہا ہے، جو پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہیں۔ تاہم کابل حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
2021 میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور تشدد کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام پر تشویش پیدا ہو رہی ہے۔
متعلقہ خبریں
- جنگ بندی کے بعد لبنان پر تقریباً 3500 فضائی حملے کیے ہیں: وزیر اعظم نواف سلام
- آبنائے ہرمز کھلی رہے گی مگر ٹرانزٹ فیس کی وصولی کے ساتھ: ایرانی سفیر کاظم جلالی
- روس کے یوکرین پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے، کم از کم 9 ہلاک، درجنوں زخمی
- امیگریشن اینڈ فارنرز رولز 2025 میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری
- جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ
