القادر ٹرسٹ کیس: سابق وزیراعظم، اہلیہ کو عدالت نے سنائی 14، اور 7 سال قید کی سزا
پاکستان کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں بدعنوانی کا مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں بالترتیب 14 اور 7 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
انسداد بدعنوانی کی عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے فیصلہ سنایا جو مختلف وجوہات کی بناء پر تین بار موخر کیا گیا تھا۔
آخری بار یہ فیصلہ 13 جنوری کو موخر کیا گیا تھا، جس پہ سخت تنقید بھی ہوئی۔ جج نے فیصلہ اڈیالہ جیل میں قائم میک شفٹ عدالت میں سنایا۔
موروکو سپین کے قریب کشتی الٹ گئی، 44 پاکستانی تارکین وطن کی موت
قومی احتساب بیورو (نیب) نے دسمبر 2023 میں خان (72)، بی بی (50) اور چھ دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا، ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے قومی خزانے کو 190 ملین پاؤنڈز (50 ارب روپے) کا نقصان پہنچایا۔
تاہم، خان اور بی بی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے کیونکہ ایک پراپرٹی ٹائیکون سمیت دیگر تمام ملک سے باہر تھے۔
یہ کیس ان الزامات کے گرد گھومتا ہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے ایک پراپرٹی ٹائیکون کے ساتھ سمجھوتے کے تحت پاکستان کو واپس کی گئی 50 ارب روپے کی رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔
مبینہ طور پر فنڈز کا مقصد قومی خزانے کے لیے تھا لیکن مبینہ طور پر اس تاجر کے ذاتی فائدے کے لیے ری ڈائریکٹ کیا گیا جس نے بی بی اور خان کو یونیورسٹی قائم کرنے میں مدد کی۔
بی بی پر القادر ٹرسٹ کی ٹرسٹی کے طور پر اس تصفیہ سے فائدہ اٹھانے کا الزام ہے، جس میں جہلم میں القادر یونیورسٹی کے لیے 458 کنال اراضی حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
متعلقہ خبریں
- جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ
- مدھیہ پردیش میں وین اور ایس یو وی کی ٹکر میں 12 افراد ہلاک
- آئی پی اے سی کے شریک بانی ونیش چندیل (I-PAC Co-founder Vinesh Chandel) کو منی لانڈرنگ کیس میں ملی ضمانت
- ایم ایل اے مہراج ملک رہا، ذہین پڑھے لکھے نوجوانوں کے نام بڑا پیغام
- دہلی ہائی کورٹ کریگی جموں کشمیر کے پابند سلاسل رہنما انجینیر رشید کی عارضی پر سماعت
