راجوری نامعلوم اموات معاملہ اب تک معمہ، مرنے والوں کی تعداد 17
جموں ڈویژن کے راجوری کے گاؤں بڈھال کے رہنے والے محمد اسلم کا چھٹا اور آخری بچہ جمعرات کو گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) جموں میں دم توڑ گیا، جس سے ایک ‘پراسرار بیماری’ پھیلنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ محمد اسلم کی بیٹی یاسمینہ جان کو ابتدائی طور پر اتوار کو جی ایم سی راجوری میں داخل کرایا گیا تھا۔ بعد میں اسے پیر کو جی ایم سی جموں ریفر کیا گیا، جہاں علاج کے دوران آج شام اس کی موت ہوگئی۔
راجوری میں حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ادویات کھائی سے برآمد، تحقیقات شروع
جی ایم سی جموں کے پرنسپل ڈاکٹر آشوتوش گپتا نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ داخلے کے بعد سے ان کی حالت نازک تھی۔
ایل جی سنہا نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا محکمہ صحت جموں و کشمیر اور دیگر محکموں نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کی لیکن صحیح حقائق کا پتہ نہیں چل سکا۔
یاسمینہ محمد اسلم کی اکلوتی زندہ بچ جانے والی بچی تھی، جو اب اپنے تمام چھ بچے – چار بیٹیاں اور دو بیٹے – کو نامعلوم بیماری کی وجہ سے کھو چکے ہیں۔ خاندانی سانحہ نے اسلم کے ماموں اور خالہ کی جانیں بھی لے لی ہیں، جس سے ایک ہفتے کے اندر مجموعی طور پر 17 اموات ہوئیں۔
متعلقہ خبریں
- شمال مغربی نائجیریا میں تشدد، مسلح حملے میں 17 کسان ہلاک، 13 زخمی
- جاپانی وفد نایاب معدنیات کے ذخائر کے جائزے کے لیے گرین لینڈ روانہ ہوگا
- پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان میں 13 افراد ہلاک، جن میں 11 بچے شامل: طالبان حکومت
- جنگ بندی کے بعد لبنان پر تقریباً 3500 فضائی حملے کیے ہیں: وزیر اعظم نواف سلام
- آبنائے ہرمز کھلی رہے گی مگر ٹرانزٹ فیس کی وصولی کے ساتھ: ایرانی سفیر کاظم جلالی
