Sharjeel Imam Moves Supreme Court:شرجیل امام 2020 دہلی فسادات سازش کیس میں ضمانت مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ پہنچے
نئی دہلی: کارکن شرجیل امام نے ہفتہ کے روز سپریم کورٹ میں دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا جس میں قومی دارالحکومت میں فروری 2020 کے فسادات کے پیچھے مبینہ سازش سے منسلک انسداد دہشت گردی قانون کے مقدمے میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس شلندر کور کی بنچ نے امام، عمر خالد، محمد سلیم خان، شفا الرحمان، اطہر خان، میران حیدر، عبدالخالد سیفی اور گلفشہ فاطمہ کی ضمانت کی درخواستوں کو خارج کر دیا۔
عدالت نے 9 جولائی کو 2022، 2023 اور 2024 میں دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
استغاثہ نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بے ساختہ فسادات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا مقدمہ ہے جہاں فسادات کی ’’پہلے سے منصوبہ بندی‘‘ کی گئی تھی جس میں ’’منحوس مقصد‘‘ اور ’’سوچی سوچی سمجھی سازش‘‘ تھی۔
خالد، امام اور دیگر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور آئی پی سی کی دفعات کے تحت مبینہ طور پر فروری 2020 کے فسادات کے “ماسٹر مائنڈ” ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کے خلاف مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔
متعلقہ خبریں
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
- Mamata Banerjee In Supreme Court over SIR ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی پر ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر شدید اعتراض، نوٹس جاری کر
- President Rule Ends in Manipur: یمنام کھیم چند سنگھ وزیرِ اعلیٰ کے لیے امیدوار، منی پور میں صدر راج ختم، نئی حکومت کی راہ ہموار
