Release of Sonam Wangchuk: مرکز نے رہائی کی مخالفت کی، سپریم کورٹ نے احتیاطی حراست کے قانون کا جائزہ لیا
نئی دہلی — مرکزی حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ وہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت کی بنیاد پر رہائی کے حق میں نہیں ہے، حالانکہ عدالت نے اس امکان پر غور کا اشارہ دیا تھا۔ اس معاملے کو لے کر Release of Sonam Wangchuk ایک اہم قانونی اور آئینی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
سونم وانگچک ستمبر 2025 سے حراست میں ہیں اور اس وقت جودھپور جیل میں بند ہیں۔ چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد مرکز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حراست کی وجوہات بدستور موجود ہیں۔ سرکار نے دلیل دی کہ الزامات کی نوعیت سنجیدہ ہے، اس لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔
وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کی ہے، جس میں ان کی فوری رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت اب دونوں فریقوں کے دلائل کا جائزہ لے رہی ہے۔
احتیاطی حراست کیا ہے؟
احتیاطی حراست (Preventive Detention) ایسے اقدام کو کہا جاتا ہے جس میں کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے یا سزا سنائے محض اس خدشے کی بنیاد پر حراست میں لیا جاتا ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی جرم کر سکتا ہے۔ یہ تعزیری حراست سے مختلف ہے، جو کسی جرم کے ارتکاب اور عدالتی سزا کے بعد عمل میں آتی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے عوامی نظم و نسق، ریاستی سلامتی یا دیگر مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔ بعض حالات میں بغیر وارنٹ یا مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بھی گرفتاری ممکن ہے۔
آئینی دفعات کیا کہتی ہیں؟
آئین ہند کا آرٹیکل 22 گرفتاری اور حراست سے متعلق تحفظات فراہم کرتا ہے۔ اس میں احتیاطی حراست سے متعلق خصوصی شقیں شامل ہیں۔
عام طور پر احتیاطی حراست تین ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی، جب تک کہ ایک مشاورتی بورڈ اس کی توسیع کے لیے معقول بنیاد کی تصدیق نہ کرے۔
البتہ آرٹیکل 22 کی شق 7 پارلیمنٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ایسے حالات متعین کرے جن میں تین ماہ سے زائد حراست کے لیے مشاورتی بورڈ کی رائے ضروری نہ ہو۔ اسی بنیاد پر مختلف خصوصی قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔
نیشنل سکیورٹی ایکٹ اور دیگر قوانین
سونم وانگچک کے معاملے میں مبینہ طور پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) 1980 لاگو کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر حکام کو قومی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ محسوس ہو تو کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
این ایس اے کو ملک کے سخت ترین احتیاطی حراستی قوانین میں شمار کیا جاتا ہے۔
دیگر اہم قوانین میں شامل ہیں:
COFEPOSA (1974): اسمگلنگ اور زرمبادلہ کی خلاف ورزیوں کے خلاف
PITNDPS Act (1988): منشیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے
National Security Act (1980): قومی سلامتی اور امن عامہ کے تحفظ کے لیے
حفاظتی اقدامات اور مشاورتی بورڈ
آرٹیکل 22 کے تحت ایسے مشاورتی بورڈز کی تشکیل لازم ہے جن کے ارکان ہائی کورٹ کے جج بننے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یہ بورڈ حراستی احکامات کا جائزہ لیتے ہیں اور طے کرتے ہیں کہ حراست جاری رکھنے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے یا نہیں۔
عام طور پر زیر حراست شخص کو وجوہات سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کر سکے۔ تاہم این ایس اے کے تحت حکومت کو حراست کی تاریخ سے تین ہفتوں کے اندر مشاورتی بورڈ کے سامنے وجوہات اور متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی مہلت حاصل ہوتی ہے۔
ہیبیس کارپس: آئینی چارہ جوئی
ہیبیس کارپس ایک مضبوط آئینی ذریعہ ہے جو کسی بھی غیر قانونی حراست کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آرٹیکل 32 کے تحت شہری براہِ راست سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالت متعلقہ حکام کو حکم دے سکتی ہے کہ زیر حراست شخص کو پیش کیا جائے اور حراست کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
سونم وانگچک کے کیس میں سپریم کورٹ مرکز اور درخواست گزار کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں مزید سماعت متوقع ہے، جہاں عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ Release of Sonam Wangchuk سے متعلق قانونی تقاضے پورے ہوئے ہیں یا نہیں اور آیا حراست برقرار رکھی جائے یا ختم کی جائے۔
متعلقہ خبریں
- Bangladesh Election 2026: 2024 کی بغاوت کے بعد پہلا عام انتخاب، سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ووٹنگ جاری
- Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel ایک ماہ سے عوامی منظرنامے سے غائب، ماؤگنج میں خوف اور سیاست کا گٹھ جوڑ معمہ بن گیا
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
