Skip to content
Vom news urdu
Menu
  • تازہ ترین خبریں
  • بین الاقوامی خبریں
  • ہندوستان
  • جموں کشمیر
    • خطہ چناب
    • شہرِ جموں
    • پیر پنجال
    • وادئ کشمیر
  • سیاسی منظرنامہ
  • انٹرٹینمنٹ
  • تجارت پر مبنی خبریں
  • کھیل کی دنیا
  • اداریہ/مضامین
Menu
Release of Sonam Wangchuk

Release of Sonam Wangchuk: مرکز نے رہائی کی مخالفت کی، سپریم کورٹ نے احتیاطی حراست کے قانون کا جائزہ لیا

Posted on February 12, 2026 by News Desk VoM Urdu
تازہ ترین خبریں, سیاسی منظرنامہ, ہندوستان
By News Desk VoM Urdu • February 12, 2026

Release of Sonam Wangchuk: مرکز نے رہائی کی مخالفت کی، سپریم کورٹ نے احتیاطی حراست کے قانون کا جائزہ لیا

نئی دہلی — مرکزی حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ وہ ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت کی بنیاد پر رہائی کے حق میں نہیں ہے، حالانکہ عدالت نے اس امکان پر غور کا اشارہ دیا تھا۔ اس معاملے کو لے کر Release of Sonam Wangchuk ایک اہم قانونی اور آئینی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

سونم وانگچک ستمبر 2025 سے حراست میں ہیں اور اس وقت جودھپور جیل میں بند ہیں۔ چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد مرکز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی حراست کی وجوہات بدستور موجود ہیں۔ سرکار نے دلیل دی کہ الزامات کی نوعیت سنجیدہ ہے، اس لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کی ہے، جس میں ان کی فوری رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت اب دونوں فریقوں کے دلائل کا جائزہ لے رہی ہے۔

احتیاطی حراست کیا ہے؟

احتیاطی حراست (Preventive Detention) ایسے اقدام کو کہا جاتا ہے جس میں کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے یا سزا سنائے محض اس خدشے کی بنیاد پر حراست میں لیا جاتا ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی جرم کر سکتا ہے۔ یہ تعزیری حراست سے مختلف ہے، جو کسی جرم کے ارتکاب اور عدالتی سزا کے بعد عمل میں آتی ہے۔

Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات

قانون نافذ کرنے والے ادارے عوامی نظم و نسق، ریاستی سلامتی یا دیگر مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے ایسے اختیارات استعمال کر سکتے ہیں۔ بعض حالات میں بغیر وارنٹ یا مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بھی گرفتاری ممکن ہے۔

آئینی دفعات کیا کہتی ہیں؟

آئین ہند کا آرٹیکل 22 گرفتاری اور حراست سے متعلق تحفظات فراہم کرتا ہے۔ اس میں احتیاطی حراست سے متعلق خصوصی شقیں شامل ہیں۔

عام طور پر احتیاطی حراست تین ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی، جب تک کہ ایک مشاورتی بورڈ اس کی توسیع کے لیے معقول بنیاد کی تصدیق نہ کرے۔
البتہ آرٹیکل 22 کی شق 7 پارلیمنٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ایسے حالات متعین کرے جن میں تین ماہ سے زائد حراست کے لیے مشاورتی بورڈ کی رائے ضروری نہ ہو۔ اسی بنیاد پر مختلف خصوصی قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔

نیشنل سکیورٹی ایکٹ اور دیگر قوانین

سونم وانگچک کے معاملے میں مبینہ طور پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) 1980 لاگو کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر حکام کو قومی سلامتی یا امن عامہ کے لیے خطرہ محسوس ہو تو کسی شخص کو زیادہ سے زیادہ 12 ماہ تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

این ایس اے کو ملک کے سخت ترین احتیاطی حراستی قوانین میں شمار کیا جاتا ہے۔

دیگر اہم قوانین میں شامل ہیں:

COFEPOSA (1974): اسمگلنگ اور زرمبادلہ کی خلاف ورزیوں کے خلاف

PITNDPS Act (1988): منشیات کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے

National Security Act (1980): قومی سلامتی اور امن عامہ کے تحفظ کے لیے

حفاظتی اقدامات اور مشاورتی بورڈ

آرٹیکل 22 کے تحت ایسے مشاورتی بورڈز کی تشکیل لازم ہے جن کے ارکان ہائی کورٹ کے جج بننے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ یہ بورڈ حراستی احکامات کا جائزہ لیتے ہیں اور طے کرتے ہیں کہ حراست جاری رکھنے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے یا نہیں۔

عام طور پر زیر حراست شخص کو وجوہات سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنا مؤقف پیش کر سکے۔ تاہم این ایس اے کے تحت حکومت کو حراست کی تاریخ سے تین ہفتوں کے اندر مشاورتی بورڈ کے سامنے وجوہات اور متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی مہلت حاصل ہوتی ہے۔

ہیبیس کارپس: آئینی چارہ جوئی

ہیبیس کارپس ایک مضبوط آئینی ذریعہ ہے جو کسی بھی غیر قانونی حراست کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آرٹیکل 32 کے تحت شہری براہِ راست سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

عدالت متعلقہ حکام کو حکم دے سکتی ہے کہ زیر حراست شخص کو پیش کیا جائے اور حراست کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔

سونم وانگچک کے کیس میں سپریم کورٹ مرکز اور درخواست گزار کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں مزید سماعت متوقع ہے، جہاں عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ Release of Sonam Wangchuk سے متعلق قانونی تقاضے پورے ہوئے ہیں یا نہیں اور آیا حراست برقرار رکھی جائے یا ختم کی جائے۔

VoM News Urdu as Preferred Source
FacebookWhatsAppInstagramTwitter
News Desk VoM Urdu

News Desk VoM Urdu

Visit Author Website

متعلقہ خبریں

  • Nike Job Cuts: ملازمتوں میں کمی کا منصوبہ، بھارت کے بنگلورو میں نیا کیمپس قائم کرے گی کمپنی
  • India-Sri Lanka Relations: بھارت نے سری لنکا کو تقریباً 3 ٹن Anti-Tuberculosis Medicines بھیج دیں
  • Social Media Influencer Nidhi Tiwari Dies: 16 لاکھ فالوورز رکھنے والی ندھی تیواری کی 30 سال کی عمر میں موت، پولیس تحقیقات جاری
  • J&K Statehood Resolution: اسمبلی میں شدید ہنگامہ، BJP کا 2000 Autonomy Resolution کے حوالہ پر احتجاج
  • Mobile Recharge Rules: اب سال میں 13 کے بجائے 12 ریچارج، Voice اور SMS-Only Plans بھی دستیاب ہوں گے

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

VoM News Urdu
ضروری معلومات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • ڈیٹا پالیسی
  • استعمال کرنے کی شرائط
All Rights Reserved VoM News Urdu
Parent site: VoM News