Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel ایک ماہ سے عوامی منظرنامے سے غائب، ماؤگنج میں خوف اور سیاست کا گٹھ جوڑ معمہ بن گیا
بھوپال/ماؤگنج —مدھیہ پردیش کے ضلع ماؤگنج میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے۔ بحث، خدشات اور الزامات کے بیچ ایک نام سب سے زیادہ زیرِ گفتگو ہے — Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel — جو تقریباً ایک ماہ سے عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے۔
پردیپ پٹیل نہ اپنے حلقہ انتخاب میں نظر آئے، نہ سرکاری پروگراموں میں شریک ہوئے۔ فون کالز کا جواب نہیں مل رہا۔ ابتدا میں اسے معمول کی غیر حاضری سمجھا گیا، مگر ایک ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا۔ ویڈیو میں وہ واضح طور پر پریشان دکھائی دیتے ہیں اور اہلِ خانہ کو ہدایت دیتے ہیں کہ دروازہ کسی کے لیے نہ کھولا جائے، حتیٰ کہ گھنٹی بجنے پر بھی نہیں۔ ضروری اشیاء آن لائن منگوانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ وہ ’’شدید خطرے‘‘ کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
تلاش کہاں تک پہنچی؟
اطلاعات ملیں کہ Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel بھوپال کے ایم ایل اے ریسٹ ہاؤس میں قیام پذیر ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی ٹیم وہاں پہنچی۔ استقبالیہ عملے نے ایک فلیٹ کی نشاندہی کی جو مبینہ طور پر ان سے منسوب تھا۔
دروازے کی گھنٹی بارہا بجائی گئی۔ فون کالز کی گئیں۔ اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔
کچھ دیر بعد ایک شخص باہر نکلا جس نے خود کو ایم ایل اے کا بیٹا بتایا۔ اس نے مختصر گفتگو کی، دھمکیوں کا ذکر کیا اور ایک نام لیا جو اب اس پورے معاملے کے مرکز میں ہے — ’’موسیٰ گینگ‘‘۔ اس کے بعد وہ فوراً اندر چلا گیا۔
مقفل دروازے، بند دفاتر
زمینی صورتحال جاننے کے لیے نمائندوں نے ماؤگنج اور ریوا میں پردیپ پٹیل سے جڑے مقامات کا جائزہ لیا۔
ریوا کی رہائش گاہ بند۔
ماؤگنج کا گھر بند۔
حلقہ انتخاب کا دفتر بھی بند۔
کوئی عملہ موجود نہیں۔ عوام کی رسائی نہیں۔ صرف افواہیں گردش میں ہیں۔
مقامی رہائشی انیل مشرا نے کہا، ’’وہ 30 سے 40 دن سے یہاں نہیں آئے۔ لوگوں کے کام رکے ہوئے ہیں۔‘‘ کئی افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شکایات جمع ہو رہی ہیں مگر منتخب نمائندہ دستیاب نہیں۔
3 اور 4 جنوری کی رات کیا ہوا؟
سیاسی ہلچل کی جڑ 3 اور 4 جنوری کی درمیانی شب بتائی جا رہی ہے۔ ماؤگنج بائی پاس کے قریب زمین کے تنازعے نے شدت اختیار کی۔
Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel نے کانگریس لیڈر ونود مشرا کی حمایت میں تقریباً چار گھنٹے دھرنا دیا۔ اسی دوران مخالف فریق سے وابستہ للو پانڈے کے پہنچنے پر کشیدگی بڑھ گئی۔ پولیس نے انہیں حراست میں لیا، مگر مجمع بڑھتا گیا اور نعرے لگتے رہے۔
انتظامیہ نے ایم ایل اے کو سیکیورٹی کے ساتھ وہاں سے نکالا۔ وہ رات گئے تک تھانے میں رہے، تاہم کوئی باضابطہ تحریری شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ اگلے دن 150 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور چند گرفتاریاں عمل میں آئیں۔
اسی کے بعد سے پردیپ پٹیل عوامی منظر سے غائب ہیں۔
’’موسیٰ گینگ‘‘ — حقیقت یا مفروضہ؟
خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار دھمکیاں ملیں۔ ایم ایل اے کے پوتے ارجن پٹیل نے الزام لگایا کہ موسیٰ نامی شخص سے منسلک گروہ نے ماضی میں 50 سے 60 افراد کے ساتھ ایک پولیس افسر کے کمرے میں داخل ہو کر دباؤ ڈالا تھا۔
کچھ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ’’موسیٰ گینگ‘‘ لکھے ہوئے گاڑیاں بھی دیکھی ہیں۔
انیل مشرا کا کہنا تھا، ’’اگر سینکڑوں لوگ حملہ کریں اور سیکیورٹی کمزور ہو تو خوف فطری ہے۔‘‘
لیکن ضلعی پولیس اس بیانیے کو رد کرتی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دلیپ سونی نے واضح کیا کہ ایسا کوئی گینگ موجود نہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال ایک انسپکٹر نے ڈائری میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں ’’موسیٰ گینگ‘‘ کا ذکر کیا تھا، جس پر اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔
تاہم مبینہ طور پر 29 جنوری 2025 کی ایک ڈائری انٹری میں 40 سے 50 افراد کے ایک افسر کے کمرے میں گھس کر دھمکیاں دینے کا ذکر موجود ہے، جنہیں مقامی طور پر ’’موسیٰ گینگ‘‘ کہا گیا۔
یہی تضاد اس معاملے کا سب سے پیچیدہ پہلو بن چکا ہے۔
سیاسی ردِعمل اور بڑھتی الجھن
ریوا سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جناردن مشرا نے کہا کہ ایم ایل اے رخصت پر ہیں اور ہر شخص کو نجی وقت کا حق حاصل ہے۔
ریاستی وزیر رادھا سنگھ نے بتایا کہ پردیپ پٹیل زیارت پر گئے ہوئے ہیں اور وزیر اعلیٰ موہن یادو ان کی موجودگی سے باخبر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ واقعی لاپتا ہوتے تو عوامی احتجاج ضرور ہوتا۔
اپوزیشن نے اس معاملے کو امن و امان سے جوڑ دیا ہے۔ قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے سوال اٹھایا کہ اگر حکمراں جماعت کا ایم ایل اے خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے تو عام شہری کی حالت کیا ہوگی۔
سوال اب بھی قائم ہیں
اگر خطرہ حقیقی ہے تو باضابطہ شکایت کیوں نہیں؟
اگر خطرہ نہیں تو ایک ماہ کی خاموشی کیوں؟
کیا ’’موسیٰ گینگ‘‘ حقیقت ہے یا سیاسی بیانیہ؟
ماؤگنج میں بے یقینی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ خاندان اندر محدود ہے۔
یہ معمہ شاید اسی وقت حل ہوگا جب Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel خود منظر عام پر آ کر ان سوالات کا جواب دیں گے — وہ سوالات جو اب ماؤگنج سے نکل کر بھوپال تک گونج رہے ہیں۔
متعلقہ خبریں
- Bangladesh Election 2026: 2024 کی بغاوت کے بعد پہلا عام انتخاب، سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ووٹنگ جاری
- Release of Sonam Wangchuk: مرکز نے رہائی کی مخالفت کی، سپریم کورٹ نے احتیاطی حراست کے قانون کا جائزہ لیا
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
