Bangladesh Election 2026: 2024 کی بغاوت کے بعد پہلا عام انتخاب، سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ووٹنگ جاری
ڈھاکہ —
Bangladesh Election 2026 کے تحت آج ملک بھر میں ووٹنگ جاری ہے۔ اسے گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے اہم انتخاب قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلا پارلیمانی الیکشن ہے جس نے شیخ حسینہ کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا۔
اٹھارہ ماہ قبل ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد ملک میں عبوری حکومت قائم ہوئی، جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک سیاست پر چھائی رہنے والی روایتی قیادت اس بار میدان میں نہیں۔ نہ شیخ حسینہ امیدوار ہیں، نہ ان کی دیرینہ حریف خالدہ ضیا۔
ماہرین کے مطابق Bangladesh Election 2026 کا نتیجہ نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ جنوبی ایشیا کے علاقائی توازن پر بھی اثر انداز ہوگا۔
Bangladesh Election 2026: بدلتا سیاسی منظرنامہ
عبوری حکومت نے عوامی لیگ کو تحلیل کر کے انتخاب لڑنے سے روک دیا ہے۔ اس کے بعد اصل مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور سخت گیر جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔
دسمبر 2025 میں خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد بی این پی کی قیادت ان کے بیٹے طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے، جو جلاوطنی ختم کر کے گزشتہ سال وطن واپس آئے۔ سیاسی مبصرین انہیں وزارت عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی ایک اتحاد کی قیادت کر رہی ہے، جس میں نیشنل سٹیزن پارٹی بھی شامل ہے — یہ نئی سیاسی قوت نوجوانوں کی تحریک سے ابھری ہے جو 2024 کے احتجاج کا نتیجہ تھی۔
عوامی لیگ نے اس انتخاب کو ’’اسٹیجڈ الیکشن‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس کے کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
Bangladesh Election 2026: ووٹنگ کی تفصیلات
299 پارلیمانی نشستوں پر صبح 7:30 سے شام 4:30 بجے تک پولنگ
ووٹوں کی گنتی فوراً بعد شروع ہوگی
شیرپور-3 حلقے میں امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ منسوخ
رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ
تقریباً 44 فیصد ووٹرز کی عمر 18 سے 37 سال کے درمیان
50 سیاسی جماعتوں کے 2,028 امیدوار میدان میں
بنگلہ دیش میں اب بھی کاغذی بیلٹ پیپر استعمال ہوتے ہیں، جو شفاف بیلٹ بکس میں ڈالے جاتے ہیں۔ تقریباً آٹھ لاکھ انتخابی عملہ اس عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔
سخت ترین سیکیورٹی انتظامات
Bangladesh Election 2026 کے دوران ملکی تاریخ کی بڑی سیکیورٹی تعیناتی کی گئی ہے:
9 لاکھ 58 ہزار سیکیورٹی اہلکار
ایک لاکھ سے زائد فوجی جوان
بکتر بند گاڑیاں حساس علاقوں میں تعینات
42,659 پولنگ اسٹیشنز
پہلی بار ڈرون، یو اے ویز اور 25 ہزار باڈی کیمرے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ 90 فیصد سے زائد مراکز سی سی ٹی وی نگرانی میں ہیں۔ الیکشن کمشنر ابوالفضل محمد ثناء اللہ کے مطابق تعیناتی ’’مقامی حساسیت‘‘ کے جائزے کے مطابق کی گئی ہے۔
اقلیتی خدشات
سخت سیکیورٹی کے باوجود اقلیتی برادریوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ میمن سنگھ میں ہندو تاجر سوسن چندر سرکار کے قتل نے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہیں گودام میں حملہ کر کے ہلاک کیا گیا اور نقدی لوٹ لی گئی۔
بنگلہ دیش ہندو بدھسٹ کرسچن یونٹی کونسل نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مختلف اضلاع میں ہندو گھروں، مندروں اور کاروباری مراکز پر حملوں کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی توجہ اور بھارت کی غیر موجودگی
تقریباً 100 غیر ملکی مبصرین اور 197 غیر ملکی صحافی Bangladesh Election 2026 کی کوریج کے لیے موجود ہیں۔ پاکستان، بھوٹان، سری لنکا، نیپال، چین اور یورپی یونین کے نمائندے مبصرین بھیجے گئے ہیں۔
بھارت نے اس بار مبصرین نہیں بھیجے، جو ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات کے تناظر میں قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔
ریفرنڈم بھی فیصلہ کن
عام انتخابات کے ساتھ ووٹرز جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ مجوزہ اصلاحات میں شامل ہیں:
وزیر اعظم کو دو مدت (10 سال) تک محدود کرنا
پارلیمان میں ایوان بالا کا قیام
انتخابات سے قبل نگراں حکومت کا نظام بحال کرنا
اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو بنگلہ دیش کا سیاسی ڈھانچہ بنیادی طور پر بدل سکتا ہے۔
علاقائی اور جغرافیائی اہمیت
شیخ حسینہ کے دور میں بنگلہ دیش کو بھارت کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ ان کی برطرفی کے بعد نئی دہلی کے ساتھ تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا ہے جبکہ چین اور پاکستان کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوا ہے۔
سیاسی حلقوں میں بی این پی کو بھارت کے ساتھ مکالمے کے لیے نسبتاً زیادہ آمادہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ جماعت اسلامی کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
ایک نیا موڑ
Bangladesh Election 2026 ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب ملک سیاسی ہلچل کے بعد استحکام کی تلاش میں ہے۔ ظاہری طور پر حالات پُرامن دکھائی دیتے ہیں، بازار کھلے ہیں اور سڑکوں پر معمول کی چہل پہل ہے، مگر اندرونی سطح پر تناؤ محسوس کیا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت کا نیشنل سیٹیزن پارٹی کے ساتھ معاہدے کا اعلان
نوجوان ووٹرز کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ بعد از حسینہ دور میں اپنی آواز درج کریں۔ بزرگ شہریوں کے لیے یہ تین دہائیوں پر محیط سیاسی کشمکش کے خاتمے کا لمحہ ہے۔
آج ڈالے گئے ووٹ طے کریں گے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا — اور کیا بنگلہ دیش سیاسی استحکام کی نئی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔
متعلقہ خبریں
- Madhya Pardesh BJP MLA Pradeep Patel ایک ماہ سے عوامی منظرنامے سے غائب، ماؤگنج میں خوف اور سیاست کا گٹھ جوڑ معمہ بن گیا
- Release of Sonam Wangchuk: مرکز نے رہائی کی مخالفت کی، سپریم کورٹ نے احتیاطی حراست کے قانون کا جائزہ لیا
- Vande Mataram & National Anthemسرکاری تقریبات اور اسکولوں میں قومی ترانے سے قبل ‘وندے ماترم’ بجایا جائے گا: مرکزی حکومت کی نئی ہدایات
- Meghalaya Coal Mine Blast: میگھالیہ میں مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان میں دھماکہ، چار مزدور ہلاک، ایک زخمی
- MLA Mehraj Malik PSA Case: ایم ایل اے مہراج ملک کے پی ایس اے کیس کی سماعت اب12 فروری کو ہوگی
