Skip to content
Vom news urdu
Menu
  • تازہ ترین خبریں
  • بین الاقوامی خبریں
  • ہندوستان
  • جموں کشمیر
    • خطہ چناب
    • شہرِ جموں
    • پیر پنجال
    • وادئ کشمیر
  • سیاسی منظرنامہ
  • انٹرٹینمنٹ
  • تجارت پر مبنی خبریں
  • کھیل کی دنیا
  • اداریہ/مضامین
Menu
سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا

سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا

Posted on April 7, 2026 by News Desk VoM Urdu
تازہ ترین خبریں, جموں کشمیر
By News Desk VoM Urdu • April 7, 2026

سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا

جموں: تقریباً نصف صدی سے جاری ایک اہم مذہبی و قانونی تنازعے کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کشتواڑ کی معروف زیارتوں زیارت فرید الدین صاحب اور زیارت اسرار الدین صاحب سے منسلک جائیدادوں کو وقف (Wakaf) قرار دے دیا ہے، اور ان خاندانوں کے موروثی ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے جو طویل عرصے سے ان زیارتوں کا انتظام سنبھالتے آئے تھے۔

یہ فیصلہ جسٹس سنجے دھر نے 2 اپریل 2026 کو سنایا، جس میں 1979 سے جاری اس مقدمے کو حتمی انجام تک پہنچایا گیا۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بطور سجادہ نشین زیارتوں کے انتظام اور نذرانوں پر موروثی حق رکھتے ہیں، تاہم عدالت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں تاریخی پس منظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ شاہ فرید الدین صاحب ایک صوفی بزرگ تھے جو تقریباً 1664 میں کشمیر آئے اور 1725 میں وفات پائی، جبکہ ان کے فرزند شاہ اسرار الدین صاحب کا انتقال 1685 میں ہوا۔ وقت کے ساتھ ان کی قبروں پر الگ الگ مزارات قائم ہوئے جو آج اہم روحانی مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ان مزارات کی صدیوں پر محیط عوامی مذہبی حیثیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ “وقف بذریعہ استعمال” (Wakaf by User) کے زمرے میں آتے ہیں، چاہے باقاعدہ وقف نامہ موجود نہ بھی ہو۔

فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ درخواست گزاروں کی اپنی دستاویزات میں ان مقامات کو روضہ (Rauza) کہا گیا ہے، جو خود وقف کی تعریف میں شامل ہے، اس طرح ان کا مؤقف کمزور پڑ جاتا ہے۔

دہلی پولیس نے 300 کروڑ روپے کا سائبر فراڈ ریکٹ بے نقاب کر دیا، سرغنہ سمیت 11 گرفتار

عدالت نے 1969 کی ایک رپورٹ، شاہی فرامین، تاریخی کتب اور مبینہ زمین کے عطیات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی حوالہ جات ملکیت کا قانونی ثبوت نہیں بن سکتے۔ اس کے برعکس ریونیو ریکارڈ مسلسل ان جائیدادوں کو زیارتوں کے نام پر ظاہر کرتے رہے ہیں، جو ایک مضبوط ثبوت ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ 1979 میں وقف قرار دینے کا عمل قانونی طور پر درست تھا اور درخواست گزاروں کو اپیل کے دوران مکمل موقع دیا گیا تھا، اس لیے قدرتی انصاف کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

تاہم عدالت نے محدود ریلیف دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار ان گھروں میں رہ سکتے ہیں جو انہوں نے زیارت کی زمین پر تعمیر کیے ہیں، لیکن اب وہ وقف کے تحت لیز ہولڈر کی حیثیت سے رہیں گے، نہ کہ مالک کے طور پر۔

اسی کے ساتھ عدالت نے جموں و کشمیر وقف ایکٹ 1978 اور 2001 کو چیلنج کرنے والی درخواست کو بھی مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے بعد یہ قوانین ختم ہو چکے ہیں اور مرکزی وقف قانون نافذ ہو چکا ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف ایک طویل قانونی تنازعے کا خاتمہ ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عوامی مذہبی استعمال کی بنیاد پر قائم ادارے نجی ملکیت نہیں بن سکتے اور ان کی قانونی حیثیت وقف کے دائرے میں آتی ہے۔

VoM News Urdu as Preferred Source
FacebookWhatsAppInstagramTwitter
News Desk VoM Urdu

News Desk VoM Urdu

Visit Author Website

متعلقہ خبریں

  • Nike Job Cuts: ملازمتوں میں کمی کا منصوبہ، بھارت کے بنگلورو میں نیا کیمپس قائم کرے گی کمپنی
  • India-Sri Lanka Relations: بھارت نے سری لنکا کو تقریباً 3 ٹن Anti-Tuberculosis Medicines بھیج دیں
  • Social Media Influencer Nidhi Tiwari Dies: 16 لاکھ فالوورز رکھنے والی ندھی تیواری کی 30 سال کی عمر میں موت، پولیس تحقیقات جاری
  • J&K Statehood Resolution: اسمبلی میں شدید ہنگامہ، BJP کا 2000 Autonomy Resolution کے حوالہ پر احتجاج
  • Mobile Recharge Rules: اب سال میں 13 کے بجائے 12 ریچارج، Voice اور SMS-Only Plans بھی دستیاب ہوں گے

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

VoM News Urdu
ضروری معلومات
  • ہمارے بارے میں
  • رابطہ کریں
  • پرائیویسی پالیسی
  • ڈیٹا پالیسی
  • استعمال کرنے کی شرائط
All Rights Reserved VoM News Urdu
Parent site: VoM News