دو دہائی بعد سی آر پی ایف کانسٹیبل کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے ملی راہت، برطرفی کالعدم قرار
سری نگر: جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے تقریباً دو دہائی قبل برطرف کیے گئے سی آر پی ایف کانسٹیبل امیت کمار کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کی برطرفی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ محکمانہ حکام نے ان کی طبی حالت کو نظرانداز کیا اور انکوائری کے دوران قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کی۔
یہ فیصلہ جسٹس سنجے دھر نے 25 مارچ 2026 کو سنایا، جو کہ سال 2008 میں دائر ایک عرضی کی سماعت کے بعد سامنے آیا۔ امیت کمار کو 4 اگست 2006 کو ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا جبکہ ان کی اپیل 30 جون 2011 کو مسترد کر دی گئی تھی۔
ریکارڈ کے مطابق امیت کمار کو 2003 میں کانسٹیبل مقرر کیا گیا تھا اور انہیں 93ویں بٹالین اننت ناگ میں تعینات کیا گیا۔ دسمبر 2005 میں وہ منظور شدہ میڈیکل چھٹی پر گئے، لیکن مقررہ وقت پر واپس ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو سکے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ واپسی کے دوران ان کی طبی حالت مزید بگڑ گئی، جس کے باعث انہیں سہارنپور، باروت اور مظفر نگر کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس کا علاج کروانا پڑا۔
دوسری جانب محکمہ نے ان کی غیر حاضری کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی اور یکطرفہ (ex-parte) انکوائری کے بعد انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔
ہائی کورٹ میں امیت کمار نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی بیماری سے متعلق حکام کو مسلسل آگاہ رکھا اور طبی دستاویزات بھی فراہم کیں، لیکن انہیں سنے بغیر ہی کارروائی مکمل کر لی گئی۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ صرف غیر حاضری کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ غیر حاضری جان بوجھ کر اور دانستہ تھی۔
عدالت نے اہم مشاہدہ کرتے ہوئے کہا:
“یہ مناسب نہیں تھا کہ انکوائری افسر یا دیگر حکام طبی ریکارڈ کو اس کی تصدیق کیے بغیر مسترد کر دیں۔”
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمانہ حکام نے بغیر کسی تحقیق کے یہ فرض کر لیا کہ طبی دستاویزات جعلی ہیں، جو کہ قانونی طور پر درست نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ درخواست گزار کی غیر حاضری تسلیم شدہ ہے، تاہم یہ ثابت کرنا ضروری تھا کہ یہ ارادی طور پر تھی، جو کہ حکام ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
عدالت نے انکوائری کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب درخواست گزار نے اپنی بیماری سے متعلق اطلاع دی تھی تو انکوائری افسر کو چاہیے تھا کہ وہ یا تو کارروائی مؤخر کرتے یا طبی معائنہ کرواتے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔
سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
عدالت نے قرار دیا کہ اس طرح یکطرفہ انکوائری کرنا قدرتی انصاف کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہائی کورٹ نے برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے امیت کمار کو دوبارہ ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا، تاہم حکام کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ نئی انکوائری کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اس بار طبی ریکارڈ کی مکمل جانچ کی جائے۔
عدالت نے کہا کہ نئی انکوائری کے بعد ہی درخواست گزار کی سروس مدت کے حوالے سے حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ سخت سزاؤں جیسے برطرفی کے معاملات میں شفافیت، منصفانہ کارروائی اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ کسی ملازم کی طبی مجبوری سے متعلق ہو۔
متعلقہ خبریں
- سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
- اروند کیجریوال آج دہلی ہائی کورٹ میں ذاتی طور پر دلائل دیں گے، ایکسائز پالیسی کیس میں پیشی
- دہلی پولیس نے 300 کروڑ روپے کا سائبر فراڈ ریکٹ بے نقاب کر دیا، سرغنہ سمیت 11 گرفتار
- خلیجی ممالک خطے کو جنگ سے بچائیں: اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سابق سربراہ Mohamed ElBaradei کی ٹرمپ پر کڑی تنقید
- ہماچل پردیش: منالی میں سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے 4 افراد ہلاک، 14 زخمی
