چین کی مداخلت کے بعد ایران جنگ بندی پر آمادہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی سیزفائر تجویز قبول کر لی
واشنگٹن/تہران: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے چین کی مداخلت کے بعد جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دو ہفتوں کی سیزفائر تجویز کو قبول کر لیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو ایک 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے ایران اور امریکہ دونوں نے اصولی طور پر قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دو ہفتے کا وقفہ ایک حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کا اہم موقع ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اس تجویز میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کی شرط بھی شامل ہے، جو عالمی تیل سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس پیش رفت میں چین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ چین، جو ایران کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، نے پہلے اسرائیل کو ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں۔
ذرائع کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت، بشمول نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی جنگ بندی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
اس سے قبل امریکہ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی اور کوئی معاہدہ نہ ہوا تو بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے جا سکتے ہیں، جن میں شہری اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف بھی شامل ہو سکتے تھے۔
ایران نے اپنی شرائط میں واضح کیا تھا کہ جنگ بندی اسی صورت ممکن ہے جب:
– حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں
– نقصانات کا ازالہ (معاوضہ) کیا جائے
– مستقبل میں حملوں کے خلاف مستقل ضمانت دی جائے
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ایرانی افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی اور دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ فراہم کی جائے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو چکی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں پاکستان نے بھی اہم ثالثی کردار ادا کیا اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم آنے والے دن اس معاہدے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
متعلقہ خبریں
- دو دہائی بعد سی آر پی ایف کانسٹیبل کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے ملی راہت، برطرفی کالعدم قرار
- سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
- اروند کیجریوال آج دہلی ہائی کورٹ میں ذاتی طور پر دلائل دیں گے، ایکسائز پالیسی کیس میں پیشی
- دہلی پولیس نے 300 کروڑ روپے کا سائبر فراڈ ریکٹ بے نقاب کر دیا، سرغنہ سمیت 11 گرفتار
- خلیجی ممالک خطے کو جنگ سے بچائیں: اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سابق سربراہ Mohamed ElBaradei کی ٹرمپ پر کڑی تنقید
