خواتین ریزرویشن بل اور لوک سبھا توسیع تجویز مسترد
نئی دہلی، 17 اپریل (VoM نیوز اُردو)
خواتین کو قانون ساز اداروں میں 2029 تک ریزرویشن دینے اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کرنے سے متعلق آئینی ترمیمی بل ایوان زیریں میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکا اور مسترد ہو گیا۔
بل کے حق میں 298 ووٹ جبکہ مخالفت میں 230 ووٹ پڑے، جبکہ کل 528 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے، جس تک بل نہیں پہنچ سکا۔
مجوزہ بل کے تحت لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کو بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاکہ 2029 کے عام انتخابات سے قبل خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی بل میں ریاستی اسمبلیوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں بھی نشستوں میں اضافہ کرنے کی تجویز شامل تھی، تاکہ خواتین کو متناسب نمائندگی دی جا سکے۔
یہ توسیع مردم شماری 2011 کی بنیاد پر نئی حد بندی (Delimitation) کے بعد عمل میں لانے کی منصوبہ بندی تھی۔
بل کی ناکامی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ آئینی ترامیم کے لیے درکار وسیع سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنا کتنا مشکل ہے، جس کے باعث خواتین ریزرویشن کے نفاذ میں مزید تاخیر متوقع ہے۔
متعلقہ خبریں
- جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ
- مدھیہ پردیش میں وین اور ایس یو وی کی ٹکر میں 12 افراد ہلاک
- آئی پی اے سی کے شریک بانی ونیش چندیل (I-PAC Co-founder Vinesh Chandel) کو منی لانڈرنگ کیس میں ملی ضمانت
- ایم ایل اے مہراج ملک رہا، ذہین پڑھے لکھے نوجوانوں کے نام بڑا پیغام
- دہلی ہائی کورٹ کریگی جموں کشمیر کے پابند سلاسل رہنما انجینیر رشید کی عارضی پر سماعت
