سعودی عرب اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنا پاکستان کے لیے مشکل، حوثی حملوں نے دفاعی معاہدے کا امتحان لے لیا
اسلام آباد، 14 ستمبر 2026 [VoM News]: پاکستان رواں سال ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان پس پردہ مذاکرات میں سہولت کاری کرتا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے خلیجی حریف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات مضبوط کرتا رہا ہے۔ تاہم سعودی افواج اور ایران نواز یمنی حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ لڑائی نے اسلام آباد کے لیے دونوں محاذوں پر توازن برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔
ہفتے کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات کی اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاکستانی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ حوثی حملے علاقائی امن و سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
یہ رابطہ سعودی عرب کی جانب سے عراق سے ڈرون حملے کے بعد 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیے جانے کے ایک روز بعد ہوا۔ یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے بچتے ہوئے سعودی تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچانے کا اہم متبادل راستہ ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کے تحت دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے گزشتہ ہفتے یہ وضاحت کہ معاہدہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے خودکار طور پر پاکستانی فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا، ریاض میں تشویش کا باعث بنی۔
رائٹرز کے مطابق پاکستانی فوجی یمن کی سرحد کے قریب سعودی علاقے میں تعینات ہیں، جس سے حوثی خطرے کی صورت میں پاکستان کے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ایران کو ناراض کرنے سے بھی گریز کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کا انحصار آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل پر ہے۔
متعلقہ خبریں
- Nike Job Cuts: ملازمتوں میں کمی کا منصوبہ، بھارت کے بنگلورو میں نیا کیمپس قائم کرے گی کمپنی
- India-Sri Lanka Relations: بھارت نے سری لنکا کو تقریباً 3 ٹن Anti-Tuberculosis Medicines بھیج دیں
- Social Media Influencer Nidhi Tiwari Dies: 16 لاکھ فالوورز رکھنے والی ندھی تیواری کی 30 سال کی عمر میں موت، پولیس تحقیقات جاری
- J&K Statehood Resolution: اسمبلی میں شدید ہنگامہ، BJP کا 2000 Autonomy Resolution کے حوالہ پر احتجاج
- Mobile Recharge Rules: اب سال میں 13 کے بجائے 12 ریچارج، Voice اور SMS-Only Plans بھی دستیاب ہوں گے
