India-Pakistan at UN General Assembly: شہباز شریف کے خطاب پر بھارت کا جواب، دہشت گردی جاری رہنے پر نتائج کی وارننگ
نیویارک، 26 ستمبر 2026 [VoM News]: بھارت نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کا جواب دیتے ہوئے دہشت گردی، جموں و کشمیر اور دیگر معاملات پر اسلام آباد کے موقف کو مسترد کردیا اور کہا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی جاری رہنے کے نتائج ہوں گے۔ پاکستان نے اپنے خطاب میں کشمیر، 2025 کے بھارت-پاکستان تنازع اور Indus Waters Treaty سمیت کئی معاملات اٹھائے تھے۔
UN General Assembly میں بھارت کے Right of Reply کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی سفارت کار پیٹل گہلوت نے شہباز شریف کے بعض بیانات کو “عجیب” قرار دیا اور اسامہ بن لادن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 9/11 حملوں کا ماسٹر مائنڈ پاکستان میں ایبٹ آباد کے قریب پایا گیا تھا۔
بھارتی نمائندے نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھارت نے یہ ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے لیے “نہ بھاگنے کی جگہ ہوگی اور نہ چھپنے کی”، اور پاکستان کی جانب سے مسلسل دہشت گردی کے نتائج ہوں گے۔
یہ بیان Operation Sindoor کے پس منظر میں سامنے آیا۔ بھارت نے 7 مئی 2025 کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ان مقامات کو نشانہ بنایا تھا جنہیں نئی دہلی نے دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا تھا۔ یہ کارروائی 22 اپریل 2025 کے Pahalgam Attack کے بعد کی گئی تھی، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔
شہباز شریف نے اپنے UNGA Address میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2025 کے بھارت-پاکستان تنازع میں ان کی “بروقت مداخلت” کا کریڈٹ دیا اور Kashmir Issue بھی اٹھایا۔
بھارت نے جموں و کشمیر کو اپنا “اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ” قرار دیتے ہوئے پاکستان کے موقف کو مسترد کیا۔ بھارتی نمائندے نے Pakistan-administered Kashmir میں انسانی حقوق کی صورتحال کا معاملہ بھی اٹھایا اور راولاکوٹ کے واقعات کا حوالہ دیا۔
بھارتی سفارت کار نے پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال، Blasphemy Laws اور فوج کے سیاسی کردار پر بھی تنقید کی۔ یہ نکات بھارت کے Right of Reply میں پاکستان کے خلاف پیش کیے گئے الزامات کا حصہ تھے۔
شہباز شریف نے Indus Waters Treaty کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو موڑنے کی کسی کوشش کو اسلام آباد “Act of War” سمجھے گا۔
اقوام متحدہ کے مطابق 81st UN General Assembly کا General Debate نیویارک میں 22 سے 26 ستمبر اور پھر 28 ستمبر 2026 کو منعقد ہورہا ہے۔
متعلقہ خبریں
- Trump Rejects Iran Ceasefire Plan: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا 7 روزہ جنگ بندی منصوبہ مسترد کردیا، امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد حملے دوبارہ شروع ہونے کا امکان: رپورٹ
- Three NDA Allies Seek Election Commission of India Clarification: SIR تنازع پر تین این ڈی اے اتحادیوں کا الیکشن کمیشن سے وضاحت کا مطالبہ
- Saudi Arabia-Houthi Conflict: ریاض کی جانب آنے والے 2 حوثی ڈرون تباہ، خمیس مشیط پر داغا گیا بیلسٹک میزائل بھی روکنے کا دعویٰ
- Houthi Attacks on Saudi Arabia & Yemen War: حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 26 فضائی حملوں کا الزام، ایک ہفتے میں 300 حملوں کا دعویٰ
- US-Ukraine Arms Deal: امریکہ نے یوکرین کے لیے 2.68 ارب ڈالر کے Air Defence Equipment کی ممکنہ فروخت منظور کردی
