South Africa Mass Shootings: جوہانسبرگ اور کیپ ٹاؤن میں دو بڑے فائرنگ واقعات، 27 افراد ہلاک، 26 زخمی
جوہانسبرگ، 27 ستمبر 2026 [VoM News]: جنوبی افریقہ کے دو بڑے شہروں جوہانسبرگ اور کیپ ٹاؤن میں دو الگ الگ Mass Shootings میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوگئے، پولیس نے اتوار کو بتایا۔ دونوں واقعات میں تاحال کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
پہلا حملہ ہفتے کو تقریباً 7:30 بجے GMT جوہانسبرگ کے مغرب میں واقع ایک Bar میں ہوا، جہاں Assault Rifles سے مسلح آٹھ افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے باہر موجود لوگوں کو نشانہ بنایا اور پھر اندر داخل ہوکر فائرنگ جاری رکھی۔
Johannesburg Shooting میں 17 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 13 مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔
حملے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی۔ پولیس نے بتایا کہ مسلح افراد فرار ہونے سے قبل دو گاڑیوں کو آگ لگا گئے۔
دوسرا Mass Shooting اتوار کی علی الصبح Cape Town کے مضافات میں ایک Township کے Entertainment Venue میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے 10 افراد کو ہلاک اور 11 کو زخمی کردیا۔
پولیس کے مطابق پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ پانچ دیگر اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ دونوں حملوں کے سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
جنوبی افریقہ طویل عرصے سے Gun Violence اور سنگین جرائم کا سامنا کررہا ہے۔ تقریباً 6 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے ملک میں اوسطاً روزانہ 60 قتل ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
جرائم پر قابو پانے کے لیے رواں سال مارچ میں Johannesburg کے Violence Hotspots میں پولیس کی مدد کے لیے فوج تعینات کی گئی تھی۔ صدر سیرل رامافوسا جرائم کو ملک کو درپیش بڑے خطرات میں سے ایک قرار دے چکے ہیں۔
جنوبی افریقہ اس سے قبل بھی داخلی بحرانوں کے دوران فوج تعینات کرتا رہا ہے۔ 2020 میں Covid-19 Lockdown نافذ کرنے، 2021 میں سابق صدر جیکب زوما کی گرفتاری کے بعد ہونے والے مہلک فسادات اور 2023 میں ٹرک جلانے کے واقعات کے دوران فوج کو سڑکوں پر اتارا گیا تھا۔ 2019 میں بھی Cape Flats کے جرائم سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی مدد کے لیے تقریباً 1,300 فوجی تعینات کیے گئے تھے۔
دریں اثنا Johannesburg کی ایک Municipality میں گزشتہ دو ماہ کے دوران 10 خواتین کے قتل نے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ تازہ ترین متاثرہ خاتون کی لاش ہفتے کو نیم برہنہ حالت میں ملی اور پولیس کے مطابق اسے پتھر مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دیگر نو متاثرہ خواتین میں زیادہ تر کی عمریں 20 سے 39 سال کے درمیان تھیں۔ پولیس کے مطابق بعض لاشوں سے جنسی تشدد کے ممکنہ آثار بھی ملے۔
پولیس نے قاتل یا قاتلوں کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 400,000 Rand، تقریباً 25,000 ڈالر، انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ Democratic Alliance نے مزید 31,000 ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
متعلقہ خبریں
- Mobile Recharge Rules: اب سال میں 13 کے بجائے 12 ریچارج، Voice اور SMS-Only Plans بھی دستیاب ہوں گے
- OpenAI Pauses AI Training: AI Agents کے غیر متوقع رویے کے بعد جدید ماڈلز کی تربیت روک دی گئی
- India UNSC Permanent Seat: روس نے سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی حمایت کردی
- Nepal Avalanche ،Himlung Himal Base Camp : ہملنگ ہمال بیس کیمپ پر برفانی تودہ گرنے سے کم از کم 10 افراد لاپتہ
- Election Commission of India on SIR: ملک گیر ووٹر لسٹ نظرثانی کو تینوں الیکشن کمشنرز کی متفقہ منظوری حاصل تھی: الیکشن کمیشن
