جی ایم سی راجوری میں حاملہ خاتون کی موت، کے بعد 5 ڈاکٹرز معطل
ذرائع کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج اور ایسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری میں پانچ ڈاکٹروں کو معطل کر دیا گیا ہے، وہیں آٹھ اسٹاف ممبران اور دو ڈاکٹرز صاحبان سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
منگل کو حاملہ خاتون کی موت کے بعد صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر تشویش اور مبینہ طبی غفلت کے بعد تادیبی کارروائی کی کا آغاز کیا گیا
معطل کیے گئے اہلکاروں کو گہرائی سے پوچھ گچھ ہونے تک میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ایسوسی ایٹڈ ہسپتال، راجوری کے دفتر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، متوفی کی شناخت رازم بیگم زوجہ محمد رفیق ساکنہ راجوری کے نام سے ہوئی، جو ساڑھے پانچ ماہ کی حاملہ تھی، جسے طبی پیچیدگیوں کے ساتھ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا، اس سے قبل کنڈی ہسپتال سے ریفر کیا گیا تھا۔
حکام کی مبینہ طبی غفلت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر وینو بھارتی، ڈاکٹر نیتو، ڈاکٹر شاکر احمد پارے، ڈاکٹر شفقت اللہ، ڈاکٹر انیف سلیم راتھر کو معطل کر دیا گیا ہے، کیونکہ وہ ایمرجنسی وارڈ میں رات کی ڈیوٹی پر تھے، جب خاتون کا علاج چل رہا تھا۔
جبکہ ڈاکٹر دیویندر کمار، ڈاکٹر بریندر کمار سمیت عملے کے آٹھ ارکان، جن کی شناخت نواز علی، قمران طارق ڈار، طاہر عباس، جگ دیو راج، شہناز اختر، تمیم اختر، رجنی کوہلی اور پرابلین کور کے نام سے کی گئی ہے، سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے جی ایم سی اور اے ایچ راجوری کے پرنسپل کے ساتھ کیا فرائض سرانجام دیئے۔
یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے داخل مریض کی حالت خراب ہونے کے بارے میں اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔ مزید یہ کہ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ہر گھنٹے کی رپورٹ پیش کریں۔
ہسپتال انتظامیہ نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
متعلقہ خبریں
- جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ
- مدھیہ پردیش میں وین اور ایس یو وی کی ٹکر میں 12 افراد ہلاک
- آئی پی اے سی کے شریک بانی ونیش چندیل (I-PAC Co-founder Vinesh Chandel) کو منی لانڈرنگ کیس میں ملی ضمانت
- ایم ایل اے مہراج ملک رہا، ذہین پڑھے لکھے نوجوانوں کے نام بڑا پیغام
- دہلی ہائی کورٹ کریگی جموں کشمیر کے پابند سلاسل رہنما انجینیر رشید کی عارضی پر سماعت
