سینتالیس سال بعد کشتواڑ زیارت تنازعہ حل، ہائی کورٹ نے جائیدادوں کو وقف قرار دیا
جموں: تقریباً نصف صدی سے جاری ایک اہم مذہبی و قانونی تنازعے کو ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے کشتواڑ کی معروف زیارتوں زیارت فرید الدین صاحب اور زیارت اسرار الدین صاحب سے منسلک جائیدادوں کو وقف (Wakaf) قرار دے دیا ہے، اور ان خاندانوں کے موروثی ملکیت کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے جو طویل عرصے سے ان زیارتوں کا انتظام سنبھالتے آئے تھے۔
یہ فیصلہ جسٹس سنجے دھر نے 2 اپریل 2026 کو سنایا، جس میں 1979 سے جاری اس مقدمے کو حتمی انجام تک پہنچایا گیا۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ بطور سجادہ نشین زیارتوں کے انتظام اور نذرانوں پر موروثی حق رکھتے ہیں، تاہم عدالت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں تاریخی پس منظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ شاہ فرید الدین صاحب ایک صوفی بزرگ تھے جو تقریباً 1664 میں کشمیر آئے اور 1725 میں وفات پائی، جبکہ ان کے فرزند شاہ اسرار الدین صاحب کا انتقال 1685 میں ہوا۔ وقت کے ساتھ ان کی قبروں پر الگ الگ مزارات قائم ہوئے جو آج اہم روحانی مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ان مزارات کی صدیوں پر محیط عوامی مذہبی حیثیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ “وقف بذریعہ استعمال” (Wakaf by User) کے زمرے میں آتے ہیں، چاہے باقاعدہ وقف نامہ موجود نہ بھی ہو۔
فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ درخواست گزاروں کی اپنی دستاویزات میں ان مقامات کو روضہ (Rauza) کہا گیا ہے، جو خود وقف کی تعریف میں شامل ہے، اس طرح ان کا مؤقف کمزور پڑ جاتا ہے۔
دہلی پولیس نے 300 کروڑ روپے کا سائبر فراڈ ریکٹ بے نقاب کر دیا، سرغنہ سمیت 11 گرفتار
عدالت نے 1969 کی ایک رپورٹ، شاہی فرامین، تاریخی کتب اور مبینہ زمین کے عطیات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی حوالہ جات ملکیت کا قانونی ثبوت نہیں بن سکتے۔ اس کے برعکس ریونیو ریکارڈ مسلسل ان جائیدادوں کو زیارتوں کے نام پر ظاہر کرتے رہے ہیں، جو ایک مضبوط ثبوت ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ 1979 میں وقف قرار دینے کا عمل قانونی طور پر درست تھا اور درخواست گزاروں کو اپیل کے دوران مکمل موقع دیا گیا تھا، اس لیے قدرتی انصاف کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
تاہم عدالت نے محدود ریلیف دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار ان گھروں میں رہ سکتے ہیں جو انہوں نے زیارت کی زمین پر تعمیر کیے ہیں، لیکن اب وہ وقف کے تحت لیز ہولڈر کی حیثیت سے رہیں گے، نہ کہ مالک کے طور پر۔
اسی کے ساتھ عدالت نے جموں و کشمیر وقف ایکٹ 1978 اور 2001 کو چیلنج کرنے والی درخواست کو بھی مسترد کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے بعد یہ قوانین ختم ہو چکے ہیں اور مرکزی وقف قانون نافذ ہو چکا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک طویل قانونی تنازعے کا خاتمہ ہے بلکہ اس نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عوامی مذہبی استعمال کی بنیاد پر قائم ادارے نجی ملکیت نہیں بن سکتے اور ان کی قانونی حیثیت وقف کے دائرے میں آتی ہے۔
متعلقہ خبریں
- جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ
- مدھیہ پردیش میں وین اور ایس یو وی کی ٹکر میں 12 افراد ہلاک
- آئی پی اے سی کے شریک بانی ونیش چندیل (I-PAC Co-founder Vinesh Chandel) کو منی لانڈرنگ کیس میں ملی ضمانت
- ایم ایل اے مہراج ملک رہا، ذہین پڑھے لکھے نوجوانوں کے نام بڑا پیغام
- دہلی ہائی کورٹ کریگی جموں کشمیر کے پابند سلاسل رہنما انجینیر رشید کی عارضی پر سماعت
