Hike In DA For Central Employees: مرکزی ملازمین کے لیے مہنگائی الاؤنس میں 2 فیصد اضافہ، ڈی اے 60 فیصد ہو گیا
نئی دہلی، 2026: مرکزی حکومت نے اپنے ملازمین اور پنشنرز کے لیے مہنگائی الاؤنس (DA) میں 2 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد یہ 58 فیصد سے بڑھ کر 60 فیصد ہو گیا ہے۔
یہ اضافہ یکم جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ ملازمین اور پنشنرز کو پچھلے مہینوں کے بقایاجات (arrears) بھی ادا کیے جائیں گے۔
نئے اضافے کے بعد تنخواہوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ مثال کے طور پر، 18 ہزار روپے بنیادی تنخواہ والے ملازمین کی مجموعی تنخواہ تقریباً 28,800 روپے تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 29,200 روپے بنیادی تنخواہ والے افراد کی آمدنی بڑھ کر تقریباً 46,720 روپے ہو سکتی ہے۔ اسی طرح، 2.5 لاکھ روپے بنیادی تنخواہ رکھنے والے سینئر افسران کی تنخواہ 4 لاکھ روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
حکومت عام طور پر سال میں دو بار، جنوری اور جولائی میں، ڈی اے میں اضافہ کرتی ہے۔ تاہم، اس بار اعلان میں تاخیر پر ملازمین میں ناراضی پائی جا رہی تھی۔ گزشتہ سال 2025 میں یہ اعلان 28 مارچ کو کیا گیا تھا۔
خواتین ریزرویشن بل اور لوک سبھا توسیع تجویز مسترد
آٹھویں پے کمیشن پر نظریں مرکوز
ڈی اے میں اضافے کے ساتھ ہی ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے مجوزہ آٹھویں پے کمیشن کے تحت تنخواہوں میں بڑی اصلاحات کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔
نیشنل کونسل-جوائنٹ کنسلٹیٹو مشینری (NC-JCM) نے حکومت کو پیش کی گئی یادداشت میں کم از کم بنیادی تنخواہ 69,000 روپے مقرر کرنے اور فٹمنٹ فیکٹر 3.83 رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر یہ مطالبات تسلیم کیے جاتے ہیں تو موجودہ 18,000 روپے کی کم از کم بنیادی تنخواہ بڑھ کر تقریباً 69,000 روپے ہو سکتی ہے۔
دیگر مطالبات میں سالانہ 6 فیصد اضافہ، کم از کم 30 فیصد ہاؤس رینٹ الاؤنس (HRA)، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی، ترقی کے وقت دو اضافی انکریمنٹس (کم از کم 10,000 روپے فائدہ)، اور گریجویٹی کے حساب میں اصلاحات شامل ہیں۔
متعلقہ خبریں
- و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں بھلیسہ چناب پریمیئر لیگ میچ کے دوران نوجوان کرکٹر جاں بحق
- لداخ میں مقامی طرزِ حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے 17 نئی تحصیلیں قائم
- شمال مغربی نائجیریا میں تشدد، مسلح حملے میں 17 کسان ہلاک، 13 زخمی
- جاپانی وفد نایاب معدنیات کے ذخائر کے جائزے کے لیے گرین لینڈ روانہ ہوگا
- پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان میں 13 افراد ہلاک، جن میں 11 بچے شامل: طالبان حکومت
